نیا تورگت اور پرانا تورگت اصل کہانی کیا ہے آخر

کورلوش عثمان میں نئے تورگوت کی انٹری کے چرچے ہر زبان پر ہیں۔۔۔۔

اور ہر شخص اپنے ذہن اور علم کے مطابق تبصرے کر رہا ہے۔

صحیح بات یہ ہے کہ دیریلش ارطغرل کے تورگوت نے اپنی کلہاڑی کے ساتھ لوگوں کے دلوں پر خود کو نقش کر لیا تھا 

اور اب ایک نیا تورگوت اس نقش کو کریدنے کی کوشش کر رہاہے، ظاہر ہے برا تو لگے گا۔

مگر ہم نے اس تحریر میں دونوں “تورگتوں” پر بات کرنے کی کوشش کی ہے۔۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

نئے اور پرانے تورگوت کی کہانی۔۔

جہاں تک ہمارا خیال ہے تو پرانے تورگوت کی کہانی درمیان راستے میں ختم کر دی گئی ہے۔۔

 اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

نمبر ایک: قانونی پرابلم، دیریلش ارطغرل کے تورگوت کے ساتھ مرضی کا معاہدہ نہیں ہو پایا ہو گا، اور اب اگر اسی کردار کو آگے چلایا جاتا تو چنگیز جوشکون مسائل پیدا کر سکتا تھا۔

ویسے بھی اس کردار کے حوالے سے بوزداغ اور خود چنگیز جوشکون(تورگوت والا اداکار) یہ کہ چکے ہیں کہ وہ اختراعی تھا، یعنی پیدا شدہ تھا، کلہاڑا استعمال کرنے والی بات تو خود اداکار نے بتائی کہ “بہت سے ہتھیار سامنے رکھے گئے تھے کہ جو استعمال میں آسان لگے،وہ منتخب کر لیں۔۔لہذا میں نے کلہاڑی منتخب کر لی اور قسمت سے وہ فیمس ہو گئی”۔

لہذا یہ طے ہوا کہ دیریلش والا تورگوت اختراعی تھا یعنی مصنف کے ذہن کی پیداوار تھا، اور تاریخ سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔۔۔

اگر چنگیز جوشکون سے معاہدہ ہو جاتا تو اسی کہانی کو آگے بڑھا لیا جاتا۔۔جیسے بامسے کی کہانی کو آگے بڑھا لیا گیا۔

لہٰذا اب بوزداغ کے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ تورگوت کو تاریخ سے ختم نہیں کیا جا سکتا، لہذا اب اسے ایک نئے کردار کے ساتھ میدان میں لایا جائے تاکہ تاریخ کا پیٹ بھرا جا سکے اور اس خالی جگہ کو مکمل کیا جا سکے۔

لہٰذا سیزن 3 میں ایک نئے کردار کے ساتھ تاریخی تورگوت کو پیش کیا جا رہا ہے۔

اور یہ تورگوت وہ تمام واقعات پورے کرے گا جو تاریخ میں درج ہیں اور جن سے ہم سب واقف ہیں۔۔۔

یعنی تورگوت سردار، ایک عام ترک سردار کی طرح کہانی میں شامل ہوں گے، جبکہ وہ ایک غیر مشہور قبیلہ کے سربراہ بھی ہوں گے۔

بہادر،نڈر اور ذہین سردار۔۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارنے والا۔

ابتدا میں ہو سکتا ہے کہ ہم تورگت کو عثمان کے خلاف جاتے اور اپنی مرضی کرتے ہوئے بھی دیکھیں،مگر جلد ہی یہ کردار عثمان کا دست و بازو بن کر۔۔عثمان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گا، اور یوں ایک زبردست اتحاد وجود میں آ جائے گا۔۔جو آگے چلتے ہوئے تاریخی واقعات بھی مکمل کرتا نظر آئے گا ۔۔۔ جس میں اہم ترین واقعہ ہو گا ایناگول کی فتح کا ہو گا۔

لہذا۔۔یہاں بوزداغ اور انیا ترس کی ٹیم کی ذہانت کو داد نہ دینا،نا انصافی ہو گی۔

ایک طرف وہ چنگیز جوشکون کے “قانونی چنگل” میں پھنسنے سے بچ گئے۔۔تو دوسری طرف “تاریخ کے خلاف جانے” کے الزام سے جان چھڑانے میں کامیاب رہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ناظرین کو تورگوت ایک نئے انداز میں بھی مل گیا۔۔ اور اب وہ نئے اور امید ہے کہ بہترین تورگوت سے مل سکیں گے۔

اور محمد بوزداغ اور ان کی پوری ٹیم نے بھرپور کوشش کی ہو گی کہ نیا تورگوت ،پرانے تورگوت سے ہر اعتبار سے بہتر رہے اور پرانے تورگوت کی جگہ نئے تورگوت کو پسند کرنے لگے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بوزداغ اور ان کی ٹیم اس مشن میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے دونوں کردار ایک ہی شخص یعنی محمد بوزداغ کے لکھے ہوئے ہیں۔۔اس لیے بجائے موازنے کے،اہم اچھی اور قابلِ تقلید چیزوں لینے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

علی یار خان

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button