ایک جنگل میں چوہے نے دعائیں مانگ مانگ کر فرشتہ بلا لیا۔

ایک جنگل میں چوہے نے دعائیں مانگ مانگ کر فرشتہ بلا لیا۔ فرشتے نے خواہش پوچھی تو بولا مجھے بلی سے ڈر لگتا ہے، مجھے بلی بنا دو۔ فرشتے نے اس کو بلی بنا دیا اور چلا گیا۔
اگلی رات پھر دعاؤں کے زور پر بلوایا گیا تو فرشتے نے بلی بنے چوہے سے پھر پوچھا کہ اب کیا؟
تو اس نے کہا کہ مجھے بلی بن کر مزہ نہیں آ رہا۔ کتا مجھکو گھورتا اور غراتا ہے، آپ مجھے کتا بنا دو۔ فرشتے کے لیے کیا مشکل تھا، اس نے چٹکی بجائی اور بلی کو کتے کے قالب میں ڈھال کر غائب ہو گیا۔
تیسری رات چوہے سے بلی اور پھر کتا بنے جانور کی آہ نے آسمانوں کو جا لیا۔ فرشتہ بغیر شور کی پرواز کے اترا اور کتے کی جانب دیکھا۔ مم مجھے بھیڑیا بنا دو۔ کل سے میں کتا بنا ہوں تو پتہ چلا ہے کہ بھیڑیے کے دانت مجھ سے زیادہ نوکیلے ہیں اور وہ مجھ سے زیادہ تیز بھاگتا ہے۔ میں اس سے لڑ بھی نہیں سکتا۔
فرشتے کا کام دعاؤں کا جواب دینا تھا، سو اس نے کتے کو بھیڑیا بنا دیا اور چلا گیا۔
اگلی رات وقت سے زرا پہلے ہی فرشتہ چوہے سے قالب بدلے بھیڑیے کے سامنے کھڑا تھا۔ اب کس بات کی مناجات ہیں؟ اس نے پوچھا! بھیڑیے کے روپ میں چوہے نے کہا، وہ، وہ، وہ مجھے شیر سے ڈر لگتا ہے۔ کیا اس کی چوڑی چھاتی ہے اور زور دار پنجہ، مجھے مارے گا تو سہہ نہیں پاؤں گا۔ اے اچھے فرشتے بس تم مجھے شیر بنا دو۔ یہ کہہ کر بھیڑیا پچھلی راتوں کی طرح قالب بدلنے کے لیے آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا۔
فرشتے نے جب اس کو آنکھیں کھولنے کو کہا تو وہ دیکھ کر چیخ اٹھا، یہ کیا؟ تم نے مجھے پھر سے چوہا بنا دیا؟ مجھے تو شیر بننا تھا، چوہا روہانسا ہو گیا۔
ہاں! میں نے تمہیں واپس چوہا بنا دیا ہے، کیونکہ میں جان گیا ہوں کہ تم غلط دعا مانگ رہے ہو۔ میں تمہارے قلبوت کو شیر، ہاتھی، گینڈا جو بھی طاقتور جانور میں ڈھال دوں گا تو کچھ نہیں ہو گا۔ تمہیں تب بھی کسی نہ کسی سے ڈر لگتا رہے گا۔ کیونکہ تمہارا قلب چوہے کا ہے، دل تمہارا چوہے کا ہی رہے گا اور اس دل سے اپنے سے بھاری جتھے کا خوف کبھی نہیں نکل پائے گا۔
یہ کہہ کر فرشتہ اڑان بھرنے لگا کہ چوہے کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر رک گیا تو میں کیا کروں؟ اپنا قلب کیسے بدلوں؟
چوہے نے سوال کیا، کیا تم میرا دل نہیں بدل سکتے؟
نہیں! دل بدلنا میرا کام نہیں ہے۔ وہ تب بدلے گا، جب وہ خود چاہے گا۔ جب تم دل سے چاہو گے تو تمہارا دل بدلے گا۔ پھر تمہیں خالق کی حکمت سمجھ میں آئیگی اور چوہا ہونے کی وہ طاقت نظر آئے گی! جو بلی، کتے، بھیڑیے یا شیر کے پاس بھی نہیں ہے ۔ تب تم خالق کے بنائے اپنے وجود سے نفرت نہیں کرو گے، بلکہ اپنی طاقتوں کو پہچان کر کام میں لاؤ گے۔

اس دنیا میں ہم سب بھی اپنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کے ساتھ آئے ہیں۔ ہم میں سے کچھ دوسروں کی ظاہری طاقت سے مرعوب ہو کر ان جیسا بننا چاہتے ہیں۔ مگر بھول جاتے ہیں کہ جس خالق نے دوسروں کو بنایا ہے، اسی نے ہمیں بھی تخلیق کیا ہے۔ ہمیں خود کو عطاء کردہ صلاحیتوں کو پہچان کر انک ا فائدہ اٹھانا چاہیئے نہ کہ کسی دوسرے کا بہروپ بن کر زندگی گزارنے کی خواہش رکھنا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button