میری عمر اس وقت کوئی چھ سال تھی ، والد صاحب ایک بہت بڑا بیل لے کر آئے

میری عمر اس وقت کوئی چھ سال تھی ، والد صاحب ایک بہت بڑا بیل لے کر آئے ، دیکھنے میں کسی گینڈے سے کم نہیں ، خوبصورت نارنجی رنگ، لمبے لمبے سینگ، آنکھیں ایسی موٹی کہ بندہ ڈوب جائے، ہیبت ایسی کہ جب نگاہ اٹھاتا تو بچوں کی فوج ادھر ادھر بھاگ نکلتی، آج کل دو تین لاکھ سے کم کا کیا ہوگا ۔ مگر اس زمانے میں 3 ہزار سے بھی کم کا لیا گیا تھا ۔ اس بیل میں چار یا پانچ حصے تھے ، ایک امی کا، ایک ابو کا، ایک ماموں کا اور ایک نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے ایصال ثواب کے طور پر تھا ۔
عید کا دن آگیا، والد صاحب کو کوئی ساتھی نہ ملا جو جانور گرانے میں مدد دے، وقت گزرتا جارہا تھا، آخر انہوں نے والدہ سے کہا، “چلو اللہ کا نام لو ، ایسے ہی قربان کردیتے ہیں۔ ” امی نے کہا، “ایسے کیسے ہوگا، اتنی بڑی جان کہاں قربان کریں گے؟” ابو نے کہا :”یہیں قربان کریں گے بس تم دیکھتی جاؤ. “بیل موقعے کی نزاکت کو سمجھ چکا تھا اس کی آنکھوں کے انگارے دہک رہے تھے، سر جھٹک کر بار بار اعلان جنگ کررہا تھا ۔
اتفاق سے اس وقت گھر میں کوئی رسی بھی نہیں تھی، والد صاحب نے چارپائی کے بان کھول کر رسی نکالی اور بیل کو پچکارنے لگے۔ آہستہ آہستہ اس کے قریب چلے گئے۔ اس کی ٹانگوں میں رسی ڈال کر بولے:”محبوب! ارشاد! اسے پکڑو اور تیار رہو. “پھر چھری سنبھالی اور بیل کے کان میں جا کر کچھ کہا، بیل نے سر جھکا لیا ، بالکل پرسکون ہوگیا ۔
ہم محلے کے بچوں کے ساتھ گھر کے دروازے پر کھڑے حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ قربانی گھر کے صحن میں ہورہی تھی جو بمشکل 15 فٹ چوڑا اور 20 فٹ لمبا تھا، اگر بیل سرکشی کرتا تو تو گھر کی دیواریں بھی ٹوٹ جاتیں اور اسے گرانے والے کل افراد بھی، یعنی امی، ابو، اور دونوں لڑکے،
اب والد صاحب نے بسم اللہ پڑھ کر بیل کے منہ کی رسی کھینچ کر اسے گرانے کی کوشش کی ، بیل بڑے آرام سے لیٹ گیا جیسے پہلے ہی تیار ہو ۔ محبوب بھائی اور ارشاد نے پچھلی ٹانگوں سے بل دی ہوئی دم پکڑی ۔ یہ دونوں حضرات اس وقت دس گیارہ سال سے زیادہ کے نہ تھے۔ بڑے ماموں نے اگلی ٹانگوں میں لپٹیی گئی بان کی رسی تھام لی ۔ والدہ صاحبہ نے سر کو پکڑا ہوا تھا ۔
والد صاحب نے “بسم اللہ اللہ اکبر” پڑھ کر جونہی چھری پھیری. خون کی ندی بہہ نکلی، ساتھ ہی بیل کا زور دار خراٹا بھی…… جو اتنا ہیبت ناک تھا کہ بچے چیخیں مارتے ہوئے بھاگ نکلے ۔ بیل نے جان دیتے ہوئے اضطراری حالت میں جو ٹانگ چلائی جو صحن کی دیوار سے لگی اور پلستر اکھڑ گیا اور اینٹیں نظر آنے لگیں، اس کے سوا اس شریف جانور نے کچھ نہیں کیا ۔
کچھ دیر بعد لوگ اپنی قربانیوں سے فارغ ہوکر آئے تو حیران ہو کر ابو سے کہنے لگے : “حاجی صاحب! آپ نے اتنا بڑا جانور گھر میں ہی گرا لیا؟ کیسے، کون کون تھا آپ کے ساتھ؟ ” جب والد صاحب بتاتے کہ اہلیہ اور دو بچوں کے سوا کوئی نہ تھا تو کسی کو یقین نہ آتا ۔
ایک بار ہم نے والد صاحب سے پوچھا :” ابو! آپ نے اس بیل کے کان میں کیا کہا تھا؟ ” فرمانے لگے :” میں نے کہا تھا، بیٹا! تمہاری قربانی میں ایک حصہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا بھی رکھا ہے۔ اس کا خیال کر لینا. ”
جانور کو رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کے نام کی حرمت کا خیال ہے۔ ہمیں کیوں نہیں؟ اسی عید کے دن نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کے کتنے ارشادات پامال ہوتے ہیں ، ہمارے دل میں کوئی ٹیس تک نہیں اٹھتی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button