ابو مجھے بت شکن نبی کا قصہ سنائیے۔ کل کلاس میں سر کو سنانا ہے

“ابو مجھے بت شکن نبی کا قصہ سنائیے۔ کل کلاس میں سر کو سنانا ہے، عارف سر نے کہا ہے کہ جو درست جواب دے گا اسے سچی کہانیاں کتاب بطور انعام ملے گی.،،
گھر میں داخل ہوتے ہی زارا ابو کے کمرے میں پہنچ گئی، ابو اس وقت دوکان کا حساب وکتاب کر رہے تھے، اس لیے بولے:
“ٹھیک ہے، ایک گھنٹے کے بعد مجھے فرصت ہوجائے گی، ویسے اگر چاہو تو الماری سے تفہیم القرآن اٹھا لو، سورۃ الانبیاء میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قصہ لکھا ہوا ہے، اگر سمجھ میں نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لینا.،،
ابو کا جواب پورا ہوتے ہی زارا دوڑی دوڑی الماری کی کتاب کے پاس گئی، وہ ویسے بھی بہت جلد باز تھی، اس نے طے کیا تھا کہ اسے کسی طور کل عارف اصلاحی سر سے انعام لینا ہے.،،
تفہیم القرآن پڑھنے کے دوران ہی اسے الماری میں ایک دوسری کتاب نظر آگئی، اس کتاب کا نام تھا “اج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا.،، اس نے اس کتاب کو بھی پڑھنا شروع کیا، تھوڑی دیر بعد امی کمرے میں داخل ہوئیں، انھوں نے زارا کو موٹی موٹی کتابوں کے درمیان دیکھا تو بولیں:
“بیٹا کیا معاملہ ہے، آج تو آپ نے چائے بھی نہیں پی، آتے ہی کتابوں کے کمرے میں گھس گئیں، کیا کوئی اہم معاملہ ہے؟،،
زارا نے امی کو پوری بات بتائی تو انھوں نے اسے قصص القرآن نام کی کتاب اٹھا کر دی اور بولیں، اسے پڑھو اس میں نبیوں کے واقعات بہت تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
زارا نے فہرست مضامین دیکھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ پڑھنے لگی، پورے دو گھنٹے میں پورا واقعہ اس کی سمجھ میں آگیا تھا۔ قصص القرآن نامی کتاب جو مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی صاحب نے لکھی تھی اسے بہت پسند آئی۔
رات مین ابو عشاء کے نماز کے بعد جب گھر میں داخل ہوئے تو زارا بالکل تیار تھی، کہنے لگی :
ابو! مجھے پورا واقعہ معلوم ہوگیا ہے، براہ کرم آپ اسے سن لیں، کل میں ان شاء اللہ اسے اسکول میں سر کو سناوں گی،،
ابو کرسی پر بیٹھ گئے اور زارا نے بت شکن نبی کا قصہ سنانا شروع کیا.
حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر ار میں پیدا ہوے تھے، ان کی قوم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتی تھی، ان کے ابو آزر خود ایک بڑے مذھبی رہنما اور بتوں کے تاجر تھے، ابراہیم علیہ السلام ذرا بڑے ہوے تو انھوں نے بتوں کے بارے میں اپنے ابو سے سوالات کرنے شروع کر دیے، ان کو حیرت تھی کہ لوگ خود ہی بت بناتے تھے اور پھر اس کی پوجا کرنا شروع کردیتے ہیں. ابراہیم علیہ السلام نے کئی بار اپنے ابو سے بتوں کے بارے میں سوالات کیے مگر وہ انھیں کوئی ڈھنگ کا جواب نہ دے سکے، ان کے ابو کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ انھوں نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے.
ابراہیم علیہ السلام نے کہا آپ اور آپ کے باپ دادا کھلی گمرہی میں مبتلا تھے. ایک دن ابراہیم علیہ السلام نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں تمہارے بتوں کے خلاف ایک چال بھی چلوں گا.
حضرت ابراہیم علیہ السلام موقع کی تلاش میں تھے کہ کسی دن قوم کو بتوں کی بے بسی اور کمزوری دکھائی جاے، اللہ کا کرنا کہ جلد ہی وہ موقع انھیں مل گیا. ایک بڑا مذھبی میلہ تھا، جب سب لوگ جانے لگے تو انھوں نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ بھی چلیے مگر انھوں نے یہ کہہ کر جانے سے انکار کردیا کہ میری طبیعت بہتر نہیں ہے.جب سب لوگ میلے میں چلے گئے تو ابراہیم علیہ السلام ان کے بت خانے میں داخل ہوے اور ایک ایک کرکے تمام بتوں کو توڑ ڈالا. صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ بعد میں اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا جاے.
جب لوگ میلے سے واپس آئے اور انھوں نے اپنے بتوں کی یہ حالت دیکھی تو کہنے لگے، یہ ابراہیم کا ہی کام ہوسکتا ہے وہی ہمارے بتوں کے بارے میں برا بھلا کہتا ہے.
ابراہیم علیہ السلام بلاے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟
ابراہیم علیہ السلام تو اسی موقع کی تلاش میں تھے فورا بولے مجھے ایسا لگتا ہے یہ ان کے بڑے بت نے کیا ہے پس اگر یہ بولتے ہوں تو ان سے پوچھ لو.
قوم کے لوگ بتوں کی بے بسی دیکھ چکے تھے مگر پھر بھی ضد پر اڑے رہے اور ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگے تم تو جانتے ہوکہ یہ بت بولتے نہیں ہیں.
ابراہیم علیہ السلام نے کہا افسوس تم پر تم اللہ کو چھوڑ کر ان بے حیثیت چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے.
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بہت حکمت سے بتوں کی بے بسی واضح کر دی تھی مگر ہر زمانے کے نافرمانوں اور اللہ کے باغیوں کی طرح ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی سمجھ میں بھی یہ بات نہ آئی اور وہ ابراہیم علیہ السلام کو اس کی سزا دینے کے لیے تیار ہوگئے. ابراہیم علیہ السلام کو کیا سزا دی گئی یہ ایک دوسرا قصہ ہے..،

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button