ہمارے محلے میں ایک بوڑھی اماں جی رہتی تھیں

ہمارے محلے میں ایک بوڑھی اماں جی رہتی تھیں، کمر بڑھاپے سے جھکی ہوئی تھی لاٹھی کا سہارا لیکر وہ گھر سے باہر نکل آتیں اور گلی میں آہستہ آہستہ چلتی رہتیں، جس گھر کے آگے تھک جاتیں وہاں چند لمحوں کیلیئے رُک جاتیں…
سردیوں کا موسم تھا، وہ ہمارے گھر کے باہر سیڑھی پر بیٹھ گئیں اور نعت پڑھنے لگ گئیں….

“میرے کملی والےﷺ کی شان ہی نرالی ہے”
“دو جہاں کا والی ہے اور کملی کالی ہے”

میں صحن میں بیٹھا سن رہا تھا، پانی کا گلاس لیا اور اماں جی کو دینے باہر آگیا… پانی پی کر اماں جی نے پاس بٹھا لیا، ماتھا چُوما اور کہنے لگیں… “جیوندا رہ میرا پُت”

میں نے کہا اماں جی دعا کریں میں پاس ہو جاؤں، انہوں نے دعائیں کچھ اس طرح مانگیں…

– اللہ پاک کملی والے دے صدقے میرے پُتر نوں پاس کرے
– اللہ سوہنے حبیب دے صدقے نصیب چنگے کرے
– اللہ سوہنا اپنے یار دے صدقے میرے پُتر نُوں زمانے دیاں خوشیاں دے….

اماں جی نے دعا مکمل کی اور اٹھ کر جانے لگیں، پھر کچھ سوچ کر بولیں…. میرا پُتر میرے لئی تُوں وی دعا منگ ساں…. میں نے کہا اماں میں کیا دعا دوں آپکو؟

وہ بولیں، دعا کر، سوہنے کملی والے ﷺ دا گھر ویکھ لواں…. اللہ مینوں اوتھے اک واری بلا لے….

میں نے دعا مانگی، اور کہا اماں اب تو بہت عمر ہوگئی آپکی، اب کیسے جائیں گیں؟ اب تو آپ ٹھیک سے چل بھی نہیں سکتیں….. اماں جی نے کہا، پُتر اوہ چاوے تے سب کج ہو سکدا اے بس دعا کریں میرا پتر….

اماں جی تھپکی دیتے ہوئے چلی گئیں…

میں نے کوئی امید نہ رکھی دعا قبول ہونے کی کیونکہ جب وہ سارے زندگی نہیں جا سکیں بیچاری تو اب تو وہ بہت ضعیف ہیں مگر دل رکھنے کیلیئے دعا مانگی….

دسمبر کا مہینہ تھا کہ محلے میں سے ایک عورت نے امی کو بتایا، اماں شریفاں عُمرے پر جا رہی ہے…. میرے کان کھڑے ہوگئے…

میں پاس آکر بیٹھ گیا اور باتیں سننے لگا…. کوئی شہر کا آدمی تھا جس نے ہمارے محلے سے اپنی زمین بیچی تھی اور کافی منافع کمایا تھا… تو اس نے کریانے والے سے ہوچھا تھا کہ یہاں کوئی بوڑھا ہو جس کو میں عمرہ کروا دوں اس کمائی میں سے تو کریانے والے نے اماں جی کا بتایا اور اس نے اماں جی کا سارا بندوبست کیا ہے….

میں سوچ میں پڑ گیا….. میری دعا قبول ہوئی؟ یا اماں جی کی اپنی قسمت تھی…. خیر اماں جی چلی گئیں.

1 ماہ بعد خبر آئی کہ اماں جی کا مدینے میں انتقال ہوگیا ہے اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی ہے….

یہ سن کر ایک طرف اماں جی کی ہر وقت کی وہ نعتیں، ہر دعا میں اللہ کو کملی والے کے واسطے یاد آنے لگے اور ایک طرف اپنی دعا…. لیکن جب جب بڑا ہوتا گیا، اس واقعہ کو ہر بار نئی سوچ کے ساتھ سوچتا گیا تو سمجھ گیا…. یہ میری دعا نہیں بلکہ ایک وسیلہ تھا اماں جی کیلیئے کہ جنہوں نے ساری زندگی نبی پاک کی نعتیں پڑھیں، اللہ کو نبی پاک کے واسطے دیئے…. تو بیشک وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنی نبیﷺ سے محبت کرنیوالی اماں جی کو کسی عام آدمی کی جگہ مہنگے داموں بکوائی، پھر اسکے دل میں کسی کو عمرہ کروانے کی خواہش ڈالی، پھر کریانے والے کے پاس بھیجا، اس سے اماں جی کا نام کہلوایا…. اور اپنے نبی کے دربار کی نہ صرف زیارت کروائی بلکہ ہمیشہ کیلیئے ہمسایہ بنا دیا….

جب بھی نومبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے، مجھے یہ واقعہ یاد آجاتا ہے، اس بار سوچا دنیا سے شیئر کروں کہ:
“میرے آقاﷺ کی شان ہی نرالی ہے”

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button