فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (03)

ایک سال میں تین صلیبی حکومتوں کا قیام

بیت المقدس کے سقوط کے بعد مسیحی اقوام نے مقبوضہ شام و فلسطین کو تقسیم کر کے القدس، طرابلس، انطاکیہ اور یافا کی چار مستقل صلیبی ریاستیں قائم کر لیں، حالات نہایت پُر خطر تھے، عالم اسلام کے اکثر حکمران خانہ جنگیوں میں مست تھے، بعض صلیبیوں کے حلیف بن گئے، ان میں سے کوئی بھی نصرانیوں سے ٹکرانے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا۔

اس صورتحال میں صلیبیوں کا مسلمان ملکوں میں داخلہ آسان تر بنتا گیا، یہاں تک کہ صرف ایک سال اور چند ماہ کے مختصر عرصے میں اس حساس اسلامی خطے میں ان صلیبیوں کی مندرجہ ذیل تین صلیبی حکومتیں معرض وجود میں آگئیں۔

ا۔ ”رہا ” کی حکومت: جو ۱۰ مارچ ۱۰۹۸ء کو قائم کی گئی۔
۲۔ ”انطاکیہ” کی حکومت: اسی سال ہی حزیران میں قائم ہوئی جس نے القدس شہر پر قبضہ کر لیا، پر ۱۰۹۹ء میں القدس شہر میں اس حکومت کو منتقل کر دیا گیا، پھر یہ شہر صلیبیوں کے ہاتھوں ہی میں چلتا آیا، یہاں تک کہ (۸۸ برس) بعد صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے ۱۱۸۷ء میں ان سے واپس لیا۔
۳۔ ”طرابلس” کی حکومت: یہ ۱۱۰۹ء میں بنائی گئی، صلیبیوں کی اس تیز رفتاری سے حکومتیں بنالینے میں ہمیں زیادہ حیرانی نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ ہم گزشتہ پشیمان کن اور ذلت آمیز اسباب دیکھ چکے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ حالت دیکھتے ہیں کہ ہمارے ان قلعوں کے والیوں اور شہروں کے امراء میں سے چند ایک تو ان حملہ آوروں سے باقاعدہ تعاون بھی کیا کرتے تھے، اپنے مال اور اپنی اولاد ان کے سامنے حاضر خدمت کر دیا کرتے تھے، اس حال میں کہ وہ القدس شہر پر قبضہ کرنے والے تھے، جیسا کہ ”شیزر“ میں بنو منقذ نے کیا اور ”طرابلس” میں بنو عمار نے یہ غدارانہ کام کیا اور ان میں کچھ اور بھی ہیں جو ان کے نقش قدم پر چلے جو اپنی حقیر کمینی اور ذلیل حکومتوں کو بچانے کے عوض اس قومی خیانت اور ذلت پر راضی ہو بیٹھے تھے۔

بیداری کا زمانہ

تقریبا چالیس سال تک عالم اسلام پر جمود طاری رہا، پھر یکایک ان ساکت لہروں میں جہادی اضطراب پیدا ہونا شروع ہو گیا، یہ بالکل نہیں ہو سکتا تھا کہ مسلمان انہی حالات میں سے گزرتے چلے جائیں، ان مایوسیوں کے بعد امت کا شعور بیدار ہونا شروع ہوا، ان سے نجات پانے اور رہائی حاصل کرنے کے لیے سوچیں پروان چڑھنے لگیں، کیونکہ مسلمان باوجود ان کٹھن حالات کے جو ان پر چھائے ہوئے تھے، پھر بھی قرآن پاک، سنت نبوی صلی الله علیہ وسلم اور سیرت نبوی صلی الله علیہ وسلم کی برکت سے اپنے دلوں میں اپنے وجود کے رویں رویں میں ( اور ریشے ریشے میں) ان اسلامی عقائد و تعلیمات کو جگہ دیتے آئے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button