فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (13)

معافیاں، جان بخشیاں اور جذبہ کی تھیلیاں:

سلطان نے اس شرط پر امان دے دی کہ عیسائی باشندوں میں سے تمام مرد فی کس دس دینار اور عورتیں فی کس ۵ دینار اور بچے فی کس ۲ دینار جزیہ دے سکیں، اپناضروری اسباب اور جانیں لے کر چلے جائیں اور جو اس فدیہ یعنی زر تلافی کو ادا نہ کر سکیں وہ بطور غلاموں کے مسلمانوں کے قبضے میں رہیں گے، عیسائی اس شرط پر رضامند ہو گئے اور بالیان بن بارزان اور بطریق اعظم اور داویہ (ٹمپلرس) اور استباریہ ( ہاسپٹلرس) کے رئیس اس رقم کے ادا کرنے کے ضامن ہوئے، بالیان نے ۳۰ ہزار دینار مفلس لوگوں کے واسطے ادا کیے اور اس جزیہ کے ادا کرنے والے تمام لوگ ان کے ساتھ شہر سے نکل گئے، ایک بہت بڑی تعداد لوگوں کی بغیر جزیہ ادا کرنے کے ہر ایک ممکن ذریعہ سے یعنی دیواروں سے لٹک کر اور دوسرے طریقوں سے نکل گئی اور باقیوں کی نسبت بھی جو جزیہ ادا نہیں کر سکتے تھے سلطان نے ایسی فیاضی رکھی جس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملے گی، ملک عادل کی درخواست پر اور اپنے بیٹوں اور عزیزوں کی درخواستوں پر بے شمار لوگ جو جزیہ ادا نہیں کر سکتے تھے آزاد کر دیئے، پھر بالیان اور بطریق اعظم کی درخواست پر بھی ایک بڑی جماعت کو آزادی دی اور سب کے بعد ایک بڑی جماعت اپنے نام پر چھوڑ دی، عیسائی ملکہ کو مع اپنی تمام دولت اور بے شمار مال و اسباب اور زر و جواہر کے اپنے ملازموں اور متعلقین سمیت اپنے خاوندوں کے پاس جانے کی اجازت دی اور کسی شخص سے خواہ وہ کتنی ہی دولت اور مال لے کر نکلا سوائے جزیہ کی معین رقم کے کچھ زائد طلب یا وصول کرنے کی کسی مسلمان نے پرواہ نہیں کی۔

جب عیسائیوں کے گھوڑے مسلمانوں کے خون میں گھٹنوں تک چلتے رہے، سلطان کا یہ سلوک جو اس نے عیسائیوں کے ساتھ کیا، اسلامی فیاضی اور عمل اور احسان اور سلوک کی ایک ایسی مثال ہے جس پر خونخوار اور درنده خصلت عیسائی دنیا کو اسلام اور مسلمانوں پر خونریزی کے الزام لگانے اور اسلام کو خون ریزی کا مترادف قرار دینے کے بجائے اس کے روبرو شرمندہ ہونا چاہئے۔

یہی شام کی سرزمین اور وہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ کے واقعات جو دونوں قوموں کی دنیا نے دیکھے اس امر کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہیں، عیسائیوں نے فتح بیت المقدس کے وقت جس خونریزی کو روا رکھا اور جو ظلم و ستم بے گناہ مسلمانوں پر کیا اور جو بے انتہاء اور بے حساب خون مرد، عورتوں اور بچوں کا گرایا وہ تاریخ کے صفحوں سے پونچھ نہیں ڈالا گیا، گاڈ فری اور ریمنڈ وغیر ہ فاتحین بیت المقدس نے جو خط اس وقت پوپ کو فتح بیت المقدس کی نسبت لکھا تھا اس میں موت کی خبر لکھنے کے بعد لکھا:

”اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ ہم نے ان دشمنوں (مسلمانوں) کے ساتھ جن کو ہم نے شہر میں پایا کیا کیا؟ تو تم کو بتایا جاتا ہے کہ رواق سلیمان اور گرجا میں ہمارے گھوڑے تک مسلمانوں کے ناپاک خون چلتے رہے۔ (تاریخ مچاڈ: جلد سوم ضمیمہ ص ۳۶۲)“

==================> جاری ہے ۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button