فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (09)

سلطان کے خیمہ میں:

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا خیمہ نصب کیا گیا، وہ الله تعالی کی ان نعمتوں پر شاکر، قابل رشک حالت میں خیمہ میں بیٹھا ہوا تھا، لوگ ان قیدیوں کو اور ان کے رسوائے زمانہ بڑے بڑے عہدیداروں کو جن کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، باری باری سلطان کے سامنے لا رہے تھے، اس فاتح سلطان نے صلیبیوں کے بادشاہ یروشلم گائی اور البرنس أرناط (ریجی نالڈ) کو اپنے خیمہ میں طلب کیا، بادشاہ کو ایک طرف بٹھا دیا گیا، اس کی حالت یہ تھی کہ شدت پیاس سے جاں بلب تھا، بس مرا ہی چاہتا تھا، اسے تھوڑا سا ٹھنڈا عرق گلاب پیش کیا جسے اس نے پیا اور پھر برنس أرناط کو بھی پلایا، صلاح الدین نے ترجمان سے کہا کہ اسے بتلا دو کہ تونے پانی پی لیا ہے جب کہ میں نے ابھی تک منہ سے بھی نہیں لگایا، کیونکہ یہ مسلمان جرنیلوں کی شروع سے عادت چلی آرہی ہے کہ جب ان کے قیدی گرفتار کرنے والوں کے سامنے کچھ کھا پی لیتے ہیں تو انہیں دلی سکون مل جاتا ہے۔

وقت حساب آن پہنچا:

جی ہاں حساب کی گھڑی آن پہنچی تھی، لیکن کس کا حساب؟ اس أرناط (ریجی نالڈ) کا حساب جو مسلمانوں کو اذیتیں اور تکالیف پہنچانے (ان کو بری طرح تڑپا تڑپا کر مارنے) اور ان کی بد خواہی و دشمنی میں تمام صلیبی امراء میں سے پیش پیش رہتا تھا، جو مسلمانوں سے فراڈ کرنے، دھوکہ دینے اور وعدے توڑنے میں بہت گہرا آدمی تھا۔

صلاح الدین اور ارناط (ریجی نالڈ ) کے مابین ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق حاجیوں اور تاجروں کے قافلے صحراء اردن سے ارناط کے قلعے “کرک” کے قریب سے بڑے اطمینان سے بلاخوف گزرتے رہے، مصر اور شام کے در میان بھی ایک راستہ براۓ آمد ورفت بن چکا تھا، یہ دونوں شہر اس ترقی پذیر بیدار اسلامی بلاک کے دو اہم بازو تھے جسے نور الدین نے منظم کیا تھا، جس کے بعد میں صلاح الدین وارث بنا تھا جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔

ایک بار ایسا ہوا کہ ایک بہت بڑا قافلہ عمدہ سازو سامان لیے مصر سے بجانب شام رواں دواں تھا، ان نفیس عمده ترین اور بیش بہا گراں مایہ اشیاء پر نظر پڑتے ہی أرناط کی رال ٹپکنے لگی، اس نے تمام وعدوں کو پس پشت ڈال کر قول و قرار کو توڑ کر قافلے کو لوٹا اور سب اہل قافلہ کو گرفتار کر کے قیدی بنالیا اور پھر ان سے یوں کہنے لگا:

”قولوا لمحمدکم یخلصکم”

”کہ اپنے نبی محمد (ﷺ) سے کہو کہ وہ یہاں آئے اور تمہیں چھڑا کر لے جائے۔”

۵۷۷ھ بمطابق ۱۱۸۱ء کو موسم گرما میں ارناط اپنی فوجوں کو لے کر نکلا، بلاد عرب میں آگے بڑھتے بڑھتے شیماء کے علاقے تک آن پہنچا، المدینۃ المنورہ، پھر “مکة المکرمة ” تک چڑھائی کرنے کی اس کی نیت بن چکی تھی، اس کے لیے وہ پر تول ہی رہا تھا کہ ”فروغ شاه ” صلاح الدین کے بھتیجے نے جو دمشق پر اس کی طرف سے قائم مقام تھا، اردن پر حملہ کرنے میں پھرتی سے کام لیا، جس کی وجہ سے ارناط اپنے “تخت سلطنت” کرک کو بچانے کے لیے واپس پلٹنے پر مجبور ہو گیا، اس کے انہیں ظلم و جور پر مبنی افعال اور وعدوں کو توڑنے والی حرکتوں کی وجہ سے صلاح الدین نے قسم اٹھا رکھی تھی کہ اگر اللہ تعالی نے اسے ”أرناط” پر کامیابی عطا فرمائی تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے واصل جہنم کرے گا۔

صلیبی گستاخ کا کربناک انجام

اب جبکہ حساب کا وقت قریب آن پہنچا تھا، اللہ تعالیٰ أرناط کو جنگی قیدی کی صورت میں سلطان کے پاس لا چکا تھا تو سلطان صلاح الدین اسے اس کی ایک ایک حرکت اور کرتوت یاد دلانے لگا، اسے کہنے لگا: تو کتنی بار قسمیں اٹھاتا رہا اور کتنی ہی بار انہیں توڑتار ہا، میں نے بھی تمہارے متعلق دو مرتبہ قسم کھائی تھی، ایک مرتبہ جب تو نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی، دوسری مرتبہ اس وقت جب تونے دھوکے سے حاجیوں کے قافلے پر حملہ کیا تھا اور کیا تو نے یہ بکواس نہ کی تھی کہ اپنے نبی محمد (ﷺ) سے کہو کہ تمہیں چھڑاکر لے جائے؟

ہاں! اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے بدلہ لے رہا ہوں۔

اس کے بعد اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جسے اس نے ٹھکرادیا، پھر اس وقت سلطان ناصر صلاح الدین نے ایک تلوار نما خنجر کو در میان سے پکڑ کر اسے مارا۔ پھر اس (سلطان) کے کسی ساتھی نے اس ملعون کا کام تمام کر دیا پھر اسے گھسیٹا گیا، مشہور و معروف قیدیوں کو دمشق کی طرف چلایا گیا اور ایک قلعے میں انہیں بند کر دیا گیا، ابن شداد کے بقول: مسلمانوں نے وہ رات انتہائی زیادہ مسرت و فرحت اور کمال درجے کی خوشیوں میں بسر کی، اللہ رب العزت سبوح و قدوس کی تعریفوں اور شکرانے کے جملوں سے فضا گونج رہی تھی۔ اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی صداؤں میں اتوار کی صبح طلوع ہوئی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button