فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (08)

مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن کی گرفتاری:

مسلمان ٹیلے پر چڑھ گئے تمام فرنگیوں کو قیدی بنا لیا، ان میں بیت المقدس کا بادشاہ ” جان نور جيان” اور ”کرک” قلعہ کا مالک ”البرنس ارناط” بھی شامل تھا، تمام فرنگیوں میں اس سے بڑھ کر مسلمانوں کا کوئی دشمن نہ تھا، مسلمانوں نے ان میں سب سے عظیم المرتبت بری فوج کے کمانڈر ان چیف ”جیرارڈی ریڈ فورٹ ” کو بھی گرفتار کر لیا، مسلمانوں نے ان کے بہت سے سرکردہ لیڈروں کو بھی قابو کر لیا تھا، ان کے علاوہ بری فوج اور صحرائی و بیابانی فوج کے دستوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا، خلاصہ یہ کہ ان میں واصل جہنم بھی بکثرت ہوئے اور بکثرت ہی گر فتار ہوئے، جو کوئی ان کے مقتولوں کو دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ کوئی ایک بھی گرفتار نہ ہوا ہو گا، (یعنی سب کے سب واصل جہنم ہو گئے ہیں جو کوئی ان کے قیدیوں پر نگاہ ڈالتا تو یہ خیال کرتا کہ کوئی بھی قتل نہیں ہوا ہو گا (یعنی سب کے سب قیدی بنا لیے گئے ہیں، لیکن وہ اس کثرت سے مقتول اور قیدی ہوئے تھے) ان ظالموں کو جب سے (491ھ ۔۔۔ 1097م) سے یہ ان اسلامی ممالک میں گھسے ہیں اتنا بڑا نقصان برداشت نہیں کرنا پڑا تھا، اس معرکہ میں عیسائی مؤرخ مچاڈ اس جنگ میں عیسائیوں کے نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تفصیل سے لکھتا ہے:

“فتح مسلمانوں کی طرف مائل ہو چکی تھی، لیکن رات نے دونوں فوجوں کو اپنے تاریک پردے میں چھپایا اور فوجیں اسی طرح ہتھیار پہنے ہوئے جہاں تھیں صبح کے انتظار میں پڑی رہیں، ایسی رات میں آرام کس کو نصیب ہو سکتا تھا، سلطان تمام رات فوجوں کو جنگ کے لیے بر انگیختہ کرتا رہا، نہایت پُر جوش الفاظ میں ان کی ہمت اور حوصلوں کو بڑھانے کی کوشش کی، تیر اندازوں میں چار چار سو تیر تقسیم کر کے ان کو ایسے مقامات پر متعین کیا کہ عیسائی فوج ان کے احاطہ سے نہ نکل سکے۔”

تیس ہزار صلیبی فوجی مجاہدین کے ہاتھوں کٹتے ہیں:

عیسائیوں نے تاریکی سے یہ فائدہ اٹھایا کہ اپنی صفوں کو قریب قریب یکجا کر دیا، لیکن ان کی طاقت صرف ہو چکی تھی، دوران جنگ بعض اوقات وہ ایک دوسرے کو موت کی پرواہ نہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے اور بعض اوقات آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر الله تعالیٰ سے اپنی سلامتی کی دعائیں مانگتے تھے، کسی وقت وہ ان مسلمانوں کو جو ان کے نزدیک تھے دھمکیاں دیتے تھے اور اپنے خوف کو چھپانے کے لیے ساری رات فوج میں ڈھول اور نفیری بجاتے رہے، آخر کار صبح کی روشنی نمودار ہوگئی جو تمام عیسائی فوج کی بربادی کا ایک نشان تھی، عیسائیوں نے جب صلاح الدین کی تمام فوج کو دیکھا اور اپنے آپ کو سب طرف سے گھرا ہوا پایا تو خوفزدہ اور متعجب ہو گئے، دونوں فوجیں کچھ دیر تک ایک دوسرے کے سامنے اپنی اپنی صفوں میں آراستہ کھڑی رہیں، صلاح الدین حملہ کا حکم دینے کے لیے افق پر روشنی کے اچھی طرح نمودار ہوجانے کا انتظار کر رہا تھا۔

جب صلاح الدین نے وہ مہلک لفظ پکار دیا تو مسلمان سب طرف سے یکبارگی حملہ کر کے خوفناک آوازیں بلند کرتے ہوئے (جس سے انگریز مؤرخ کی مراد نعرہ تکبیر اللہ اکبر ہے) ٹوٹ پڑے، عیسائی فوج کچھ دیر تک تو جان توڑ کر لڑی، مگر ان کی قیمتیں ان کے دنوں کو ختم کر چکی تھیں، ان کی بائیں جانب کوہ حطین واقع تھا، تلواروں اور نیزوں کے سایہ میں پناہ نہ دیکھ کر وہ حطین کی طرف بڑھے کہ اسی کو اپنی اپنی پناہ گاہ بنائیں، لیکن تعاقب کرنے والے مسلمان وہاں ان سے پہلے پہنچنے والے تھے، یہی مقام اس عظیم اور مہیب خونریزی کی یاد گار ہونے (بننے والا) تھا، صلیب کی لکڑی جو ”عکا” کے پادری کے ہاتھ میں تھی، پادری کے کٹ کر گر جانے پر ”لذا” کے پادری نے سنبھالی، مگر وہ مع صلیب کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہو گیا، صلیب کو چھڑانے کی کو شش کرنا باقی عیسائی فوج کی موت کا باعث ہو گیا۔

حطین کی زمین کشتوں سے بھر گئی، خون کا دریا بہہ نکلا، ایک روایت کے مطابق تیس ہزار عیسائی فوج کے خون سے رنگی گئی اور تیس ہزار ہی مسلمانوں کی قید میں آگئے، مسلمانوں کی فوج کے نقصان کا کوئی صحیح اندازہ بیان نہیں کیا گیا، مگر ایسی فتح آسانی سے نہیں ہو سکتی تھی، عیسائی نائٹ اور سوار سر سے پاؤں تک لوہے کی زرہوں وغیرہ میں ایسے چھپے ہوئے ہوتے تھے کہ سوائے آنکھ کے ان کے جسم کا کوئی مقام کھلا نہیں ہوتا تھا اور کوئی ہتھیار آسانی سے ان پر کار گر نہیں ہو سکتا تھا۔

جب چالیس چالیس صلیبی قیدی خیمے کی ایک رسی سے باندھے گئے:

ایک مسلمان مؤرخ اس امر کو بطور عجیب واقعہ بیان کرتے ہوئے جہادی عظمت کے حقائق کا انکشاف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عیسائی سوار سر تا پا لوہے سے ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر نیزہ اور تلوار سے زخم لگانا مشکل ہوتا تھا، اس لیے پہلے گھوڑے کو قتل کر کے سوار کو زمین پر گرانا پڑتا تھا اور پھر اس کو مارا جاتا تھا، اسی سبب سے بے شمار مال غنیمت میں کوئی گھوڑا مسلمانوں کے ہاتھ نہ آیا، عیسائی مقتولوں کے سخت ہیبت ناک نظارے مؤرخوں نے بیان کیے ہیں۔

ان کی صفوں کی صفیں کٹی پڑی تھیں اور جدھر نظر جاتی تھی، اسی طرح عیسائی کی تعداد بھی عظیم تھی، ایک ایک رسی میں تیس تیس چالیس چالیس عیسائی باندھ دیئے گئے اور سو سو اور دو دو سو قیدیوں کو ایک جگہ بند کیا گیا جن پر ایک ہی مسلمان محافظ تھا، ایک شخص اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتا ہے کہ ایک مسلمان سپاہی اکیلا ۴۰ عیسائی قیدیوں کو خیمہ کی رسی سے باندھ کر ہانکتا ہوا لے جارہا تھا، دمشق میں تین دینار میں ایک ایک عیسائی قیدی فروخت ہوا اور ایک سپاہی نے جس کے پاس جوتا نہ تھا اپنے حصہ کے ایک عیسائی قیدی کو ایک کفش دوز (موچی) کے ہاتھ جوتے کے بدلے میں فروخت کیا، مال غنیمت کی تقسیم سے ہر ایک غریب سپاہی بھی مالدار ہو گیا۔“

غرض اس قسم کے حالات ہیں جو بیان کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حطین کی شکست نے عیسائیوں کی طاقت کو جڑ سے اکھیڑ دیاتھا اور اس سے زیادہ ابتری اور تباہی کیا ہو سکتی ہے کہ عیسائیوں کی صلیب، عیسائیوں کا بادشاہ، ہر ایک عیسائی امیر اور نامور شخص مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو گیا تھا، امراء اور نامور والیان ملک عیسائیوں میں صرف ایک شخص ر یمنڈ صاحب طرابلس جو فوج کے پچھلے حصہ پر متعین تھا، میدان جنگ سے جان بچا کر بھاگ سکا، مگر موت نے وہاں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور طرابلس میں پہنچ کر دل شکنی سے یا ذات الجنب کے مرض سے مر گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button