فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (02)

طوائف الملوکی کا دور اور صلیبیوں کی آمد آمد:

صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے آخری سالوں پر گفتگو کرنے کا یہ ایک تقاضا ہے کہ صلیبی جنگوں کے (491ھ ۔۔۔ 1097ء) میں شروع ہونے اور بڑھنے سے قبل عالم اسلام پر ایک نگاه اگرچہ طائرانہ ہی سہی ڈالی جائے اور خاص طور پر اس علاقے پر جو صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے پروان چڑھنے کے لیے ساز گار ثابت ہوا اور وہ ہیں جزیرہ فراتیہ، شمالی عراق اور مصر کے علاقے ۔۔۔

صلیبی جنگوں کے حوالے سے ایک سابقہ دور کی سیاسی زندگی کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے، پورے عالم اسلام میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت طاری تھی، صرف بغداد ہی کو لیں تو خلافت عباسیہ دگر گوں اور ڈانواں ڈول تھی اور حالت یہاں تک ہو چکی تھی کہ سلجوقی بادشاہوں کے اشارے پر کام چلایا جارہا تھا، اسی لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکومت “بویہیہ” کی نسبت حکومت “سلجوقیہ“ خلافت عباسیہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی، اس لیے کہ یہ لوگ “اہل سنت‘‘ اور وہ “اہل تشیع” تھے، اس خلافت نے ان دونوں کے تسلط سے بچتے ہوئے کٹھن مراحل میں سانس لیا اور یقیناً حکومت سلجوقیہ کا اس علاقے میں اہل سنت عقائد کی ترویج و استحکام میں اور رومی معرکوں کی روک تھام میں اہم کردار ہے۔

یہ وہی حکومت ہے جس نے (463ھ ۔۔۔ 1071ء) میں ”ملاذ کرد “ کے فیصلہ کن معرکہ میں برابر کا ماپ دیا تھا (یعنی رومیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا) لیکن ابھی 1097ء کا برس شروع نہ ہوا تھا کہ یہ حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور باہم متصادم ایک دوسرے سے دست گریباں اور ایک دوسرے کو زیر کرنے والی پانچ سلجوقی حکومتیں بن بیٹھیں اور پھر بتدریج ان صلیبی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے سے عاجز آتی گئیں، جب کہ مصر ”خلافت فاطمیہ“ کے زیر اثر تھا جہاں پر ہنگامہ آرائی نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے اور پھر یہ دن بدن چاروں طرف پھیلتے ہی چلے گئے، بالآخر نوبت بایں جا رسید کہ حلیفوں وزیروں اور سرداروں میں ختم نہ ہونے والے جھگڑے طول پکڑ گئے ۔

مذکورہ حالات سے بڑھ کر ملک شام تو فاطمیوں اور سلجوقیوں کی کھینچا تانی میں میدان جنگ بنا ہوا تھا، ان دونوں قوتوں کو اس بات کی پرواہ تک بھی نہ رہی کہ اپنے ملک اور رعایا کے لیے ضروری و حقوق کا خیال بھی رکھ سکیں۔

تو ان حالات میں چھوٹی چھوٹی اور حقیر سی طوائف الملوکی پر مبنی گروہی حکومتوں نے جنم لیا، کچھ تو ایسی بھی تھیں کہ جن کے پاس ایک قلعے سے زیادہ اور تھوڑی سی زمین کی ٹکڑی کے سوا کچھ بھی نہ تھا، یہ عجیب و غریب حکمران آپس میں ایک دوسرے کے خلاف جھگڑنے اور ظلم و زیادتی کرنے والے بنتے چلے گئے۔ ابو شامہ کے بقول کسی کا اپنے پیٹ اور شرم گاہ سے آگے کوئی پروگرام نہ تھا۔

پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس

پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب کہ خلافت عباسیہ زوال پزیر تھی اور امت مسلمہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو چکی تھی، مسیحی اقوام کو اپنی ناپاک آرزو کی تکمیل کا موقع مل گیا۔ ”میڈیا وار” کے تحت پطرس راہب نے مسلمانوں کے مظالم کی فرضی داستانیں سنا کر پورے یورپ میں اشتعال پیدا کر دیا اور سبھی دنیا میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگادی، پوپ اربن دوم نے اس جنگ کو ”صلیبی جنگ” کا نام دیا اور اس میں شرکت کرنے والوں کے گناہوں کی معافی اور ان کے جنتی ہونے کا مژدہ سنایا، زبر دست تیاریوں کے بعد فرانس، انگلینڈ، اٹلی، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی افواج پر مشتمل تیره لاکھ افراد کا سیلاب عالم اسلام کی سرحدوں پر ٹوٹ پڑا۔

روبرٹ، نارمنڈی، گاڈ فری اور ریمون الطولوزی جیسے مشہور یورپی فرمانروا ان بکھری ہوئی افواج کی قیادت کر رہے تھے، شام اور فلسطین کے ساحلی شہروں پر قبضہ کرنے اور وہاں ایک لاکھ سے زائد افراد کا قتل عام کرنے کے بعد شعبان 492 ھ، جولائی 1099ء میں صلیبی افواج نے بیالیس دن کے محاصرے کے بعد بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور وہاں خون کی ندیاں بہا دیں، فرانسیسی مؤرخ “میشو“ کے بقول صلیبیوں نے ایسے تعصب کا ثبوت دیا جس کی مثال نہیں ملتی، عربوں کو اونچے اونچے برجوں اور مکانوں کی چھت سے گرایا گیا، آگ میں زندہ جلایا گیا، گھروں سے نکال کر میدان میں جانوروں کی طرح گھسیٹا گیا، صلیبی جنگجو مسلمانوں کو مقتول مسلمانوں کی لاشوں پر لے جاکر قتل کرتے، کئی ہفتوں تک قتلِ عام کا یہ سلسلہ جاری رہا، ستر ہزار سے زائد مسلمان صرف اقصیٰ میں تہ تیغ کیے گئے، عالم اسلام پر نصرانی حکمرانوں کی یہ وحشیانه یلغار تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔

عیسائی کمانڈروں نے فتح کے بعد یورپ کو خوشخبر ی کا پیغام بھجوایا اور اس میں لکھا: ”اگر آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا سلوک معلوم کرنا چاہیں تو مختصراً اتنا لکھ دینا کافی ہے کہ جب ہمارے سپاہی حضرت سلیمان علیہ السلام کے معبد (مسجد اقصیٰ) میں داخل ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔ (تاریخ یورپ۔ اے جے گرانٹ، ص: 257)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button