فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (16)

سلطان صلاح الدینؒ بیت المقدس میں داخل ہوتا ہے:

اب رہا ان کا معاملہ جو “اہل قدس” میں سے اس کے خلاف معرکہ آراء رہے، تقریباً ستر ہزار کی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہو گئے، نجابت، سماجت، مہربانی اور شرافت میں جن کی یادیں ضرب الامثال بن چکی ہیں، اس پر کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ یہ تو سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ جیسے مسلم جرنیل کی صفات میں صرف ایک “صفت چشمہ نما ” کی حیثیت رکھتی ہے۔

عیسائیوں کے نشانات مٹانے کا حکم ہوتا ہے

سلطان صلاح الدینؒ نے بیت المقدس کی فتح کے بعد صلیبیوں کے نشانات کو ختم کرنا شروع کر دیا اور اس میں اسلامی طور اطوار واپس لانے شروع کیے، امام ابن الاثير کے بقول:

“یہاں اسلام یوں پلٹ آیا جیسے موسم بہار میں کسی سوکھی شاخ میں تروتازگی پلٹ آتی ہے اور یہ ” نشان بلند ” یعنی بیت المقدس کی فتح سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد سوائے صلاح الدین ایوبی ؒ کے کسی کے مقدر نہ بنی اور ان کی عظمت و رفعت اور سر بلندی کے لیے یہی کارنامہ ہی کافی ہے، مسجد اقصیٰ کی حالت عیسائیوں نے ایسی بگاڑ دی تھی کہ بہت کچھ تبدیلی اور درستی کے بغیر اس میں نماز نہیں پڑھی جا سکتی تھی، سب سے پہلے سلطان نے اس کی درستی کا حکم دیا۔

محراب کی رونقیں واپس لوٹتی ہیں

فرقہ داویہ (ٹمپلرس)کے عیسائیوں نے مسجد کے قدیم محراب کو بالکل چھپا دیا تھا، اس کے مغرب کی طرف ایک جدید عمارت گرجا بنا کر محراب کو اس میں داخل کردیا تھا اور محراب اس کی دیواروں میں غائب ہو گئی تھی، محراب کے نصف حصہ پر دیوار بنا کر ان بدبختوں نے بیت الخلاء بنا دیا تھا اور نصف کو علیحدہ کر کے وہاں غلہ بھرنے کی جگہ بنائی تھی، سلطان کے حکم سے یہ جدید دیواریں اور مغربی طرف کا گرجا وغیرہ گرادئیے گئے اور محراب کی اصل صورت نکال کر جہاں اس کی مرمت اور درستی کی ضرورت تھی کردی گئی۔

صدائے اذان کی گونج اور جمعة المبارک کا روح پرور نظارہ

مسجد کو اس کی اصلی حالت میں لا کر عرق گلاب سے جو کہ دمشق سے لایا گیا تھا، دھویا گیا اور صاف کر کے نماز کے لیے پاک اور آراستہ کی گئی، منبر رکھا گیا اور محراب کے قندیلیں لٹکائی گئیں، قرآن مجید کی تلاوت شروع کی گئی اور وہیں نماز پڑھی جانے لگی، ناقوس کی صدا کے بجائے اللہ واحد کی اذانیں کہی جانے لگیں۔

4 شعبان کو دوسرے جمعہ کا دن جو نماز ادا کرنے کے واسطے پہلا جمعہ تھا، ایک عجیب و غریب شان و شوکت کا دن تھا، خطیبوں نے خطبے تیار کیے تھے اور ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ اسے خطبہ پڑھنے کی اجازت دی جائے، بے شمار لوگ ہر ایک درجہ اور رتبہ کے ہر ایک دیار و ملک کے علماء و فضلاء جو سلطان کے ساتھ رہتے تھے اور ہر ایک علم و ہنر کے نامور آدمی بیت المقدس میں پہلی نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے، ایک غیر معمولی جوش سب کے چہروں سے عیاں تھا اور دلوں پر رقت طاری تھی، اذان کہے جانے کے بعد سلطان نے قاضی محی الدین ابی المعالی محمد بن ذکی الدین قریشی کی طرف منبر پر چڑھنے کا اشارہ کیا، خطیب نے منبر پر چڑھ کر اس فصاحت و بلاغت سے خطبہ پڑھنا شروع کیا کہ لوگ نقش دیوار کی طرح ساکت اور خاموش ہوگئے، سامعین کے دل دہل گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے، بیت المقدس کی تقدیس اور مسجد اقصیٰ کی بناء سے شروع کرکے اس کے فتح کے حالات تک واقعات کو کمال خوبصورتی اور اختصار کے ساتھ بیان کیا اور اللہ کریم کی منت اور احسان بیان کر کے بادشاہ بغداد اور سلطان کے لیے دعا کی۔ (ان اللہ یا مرکم بالعدل و الإحسان ) پر ختم کیا۔

پھر مسلمانوں نے شعبان کی 4 تاریخ کو آنے والا جمعہ صلاح الدین کی معیت میں بیت المقدس ہی میں ادا کیا، ابن الزکی قاضی دمشق نے یہ پہلا خطبہ مسجد اقصی میں ارشاد فرمایا، بعد میں اس کے ماضی کے اٹھاسی برسوں کے خطبات اور جمعات اس مسجد سے غائب ہو چکے تھے، ان صلیبی غاصبوں نے ذلیل اور رسوا ہوکر اسے چھوڑا اور ان شاء اللہ ہر ظالم، غاصب، آثم کا یہی انجام ہوگا، جو مسلمانوں کو دکھ دے کر اپنی راتیں گزارتا ہے، جب یہ مسلمان صحیح سمت پر گامزن ہونگے اور اللہ کے حضور اپنے جہاد، اپنے عزائم اور اپنی نیتوں میں سچے ہوجائینگے۔

بیت المقدس کی فتح کے بعد شکرانے کے آنسو اور ہچکیاں

خطبہ ختم کرنے کے بعد منبر سے اتر کر امامت کی اور ادائے نماز کے بعد سلطان کے ایماء سے زین العابدین ابوالحسن علی بن نجا وعظ کرنے کے لیے کھڑا ہوا اور نہایت خوش الحانی اور طلاقت لسانی سے خوف اور رجاء، سعادت و شقاوت، ہلاکت و نجات کے مضامین پر ایسا عمدہ اور مؤثر وعظ کہا کہ سامعین دھاڑیں مار مار کر روئے اور سب پر عجیب سی حالت طاری ہو گئی اور بعد ازاں سب نے سلطان کے دوام نصرت کے واسطے دعائیں مانگیں۔

سلطان نورالدین زنگی ؒ کا بنایا منبر، محراب بیت المقدس کی زینت بنتا ہے

اس روز جس منبر پر خطبہ پڑھا گیا تھا وہ ایک معمولی منبر تھا، سلطان نورالدین کا منبر اس کے بعد وہاں لا کر رکھا گیا، سلطان نورالدين محمود بن زنگیؒ نے اس واقعے سے تیس برس پیشتر بیت المقدس کی اس عظیم الشان مسجد میں رکھنے اور بعد فتح اس پر خطبہ پڑھے جانے کے لیے ایک عالی شان منبر جس کو نہایت صنعت اور کاریگری سے بڑے بڑے صناعوں (کاریگروں ) کی عرصہ دراز کی محنت اور صَرف زر کثیر کے بعد بنوایا تھا اور اس کو اپنے خزانے میں محفوظ رکھا تھا (کہ جب میں بیت المقدس فتح کرونگا تو اسے اس محراب کی زینت بنا کر اپنا دل ٹھنڈا کروں گا )، لیکن سلطان رحمہ اللہ کی یہ آرزو فتح بیت المقدس پوری نا ہوئی اور منبر اسی طرح پڑا رہ گیا، سلطان صلاح الدین نے اس کو منگوا بھیجا اور مسجد اقصیٰ کے محراب میں رکھوا کر بزرگ نورالدین کی تمنا کو پورا کیا جو وہ حسرت کی طرح دل میں لئے دنیا فانی سے چل بسا، بیت المقدس کی عمارات اور اکمنہ متبرکہ اور دوسرے کوائف میں تبدیلیاں اور درستیاں کیں۔

صلبیوں کی دلخراش جسارتیں

اسلامی شعار کو ختم کرکے صلیبی تہذیب اور رنگ کو غالب کرنے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے عماد لکھتا ہے کہ: صخرہ مقدسہ پر فرنگیوں نے ایک گرجا تعمیر کرلیا تھا، جو شکل وصورت اس کی مسلمانوں کے وقت میں تھی اس کو بدل ڈالا تھا اور نئی عمارتوں میں اس کو بالکل چھپا دیا تھا، اس کے اوپر بڑی بڑی تصویریں لٹکا دی تھیں اور صخرہ کو کھود کر اس میں بھی خنازیر وغیرہ کی تصویریں بنائی گئی تھیں، قربان گاہ کو بالکل برباد کر ڈالا تھا، اس میں غلط اشیاء بھردی تھیں، وہاں بھی تصویریں لگائی گئی تھیں اور پادریوں کے رہنے کے مکان اور انجیلوں کا کتب خانہ بنایا ہوا تھا، (ان صلیبی جسارتوں کا تدارک کر کے ) ان سب کو سلطان نے ان کی اصلی شکل میں تبدیل (بحال )کردیا ۔

مقام قدم مسیح

ایک جگہ جس کو مقام قدم مسیح کہتے ہیں، ایک چھوٹا سا قبہ تعمیر کر کے اس پر سونا چڑھایا ہوا تھا، صلیبیوں نے اس کے گرد ستون کھڑے کر کے ان پر ایک بلند گرجا تعمیر کیا تھا، جس کے اندر وہ قبہ چھپ گیا تھا اور کوئی اس کو دیکھ نہیں سکتا تھا، سلطان نے اس حجاب کو اٹھوا کر اس پر ایک لوہے کے تاروں کا پنجرہ بنوادیا، اس کے اردگرد قندیلیں لگائیں جن سے وہ مقام رات کو روشنی سے جگمگاتا جاتا تھا، وہاں حفاظت کے واسطے پہرہ مقرر تھا۔

بت توڑے جاتے ہیں

سنگ مرمر کے کثیر التعداد بت جو اس کے اندر سے نکلے تھے، تڑوا کر پھینک دیئے گئے، مسلمانوں کو اس امر کے دیکھنے سے بہت رنج ہوا کہ عیسائی صخرہ شریف سے ٹکڑے کاٹ کر قسطنطنیہ کو لے گئے تھے، جن کو وہ وہاں سونے کے برابر فروخت کرتے تھے اور اس کے بت بنواتے تھے، سلطان نے صخرہ کی حفاظت کا انتظام کر کے اس پر امام مقرر کر دیا اور بہت سی اراضی اور باغات اور مکانات بطور وقف کے اس کے لیے جاگیر مقرر کردیئے اور قلمی قرآن شریف موٹے حروف میں لکھے ہوئے لوگوں کے پڑھنے کے لیے وہاں رکھوادیئے۔

مساجد و مدارس کا قیام عمل میں آتا ہے

محراب داؤد علیہ السلام مسجد اقصیٰ سے باہر ایک قلعہ میں شہر کے دروازے کے پاس ایک نہایت رفیع الشان عمارت تھی اور اس قلعہ میں والی بیت المقدس رہا کرتا تھا، سلطان نے اس کی بھی مرمت کروائی، دیواریں صاف اور سفید کرائیں اور پھاٹک اور دروازوں کو درست کروادیا اور امام ومؤذن وہاں رہنے کو مقرر کیے اور مساجد کی تعمیر کرائی اور جو جو ضروریات لوگوں کی تھیں ان کو پورا کر دیا، اس قلعہ میں جو سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے گھر تھے اور زیارت گاہ تھے، درست کر دیئے، فقہائے شافعیہ کے لیے ایک مدرسہ قائم کیا اور صلحاء کرام کے لیے ایک مہمان خانہ بنوایا، دوسرے علوم کی تعلیم و تدریس کے لیے بہت سے اور مدارس قائم کیے اور معلموں اور طالب علموں کے لیے ان کی تمام ضروریات کا انتظام کردیا، غرض بیت المقدس کی بزرگی ایک فیاض اور عالی ہمت مسلمان بادشاہ سے جس اہتمام کی خواہش کرسکتی تھی اس سے زیادہ اہتمام سلطان نے کیا اور بیت المقدس کے ساتھ سلطان کی یہ فیاضانہ اور اسلامی دلچسپی صرف اس کی ذات تک محدود و مخصوص نہیں رہی، اس کے بعد اس کے بھائی عادل اور اس کے بیٹوں اور جانشینوں نے بیت المقدس کی عظمت و بزرگی اور شان و شوکت کے بڑھانے کے واسطے اس سے بھی بڑے بڑے کام کیے اور اپنے اس نامورانہ تعلق کو اس مقدس مقام کے ساتھ آخر تک نبھاہ تے رہے۔

اس مبارک فتح کے لیے سلطان کے پاس تمام مسلمان فرماں رواؤں کے پاس سے اور ہر طرف سے قاصد مبارک باد کے خطوط لائے، دربار بغداد سے ایک غلط فہمی کے باعث کچھ کشیدگی سی پیدا ہوگئی جو بہت جلد رفع ہوگئی، شعراء نے اس کی تعریف میں بے شمار قصائد لکھے جو بجائے خود ایک دفتر عظیم ہیں۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button