فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (15)

اتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (15)

قیدیوں کی رہائی اور رحمدلانہ سلوک

جب مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ شروع کیا اس وقت بیت المقدس میں ایک لاکھ سے زیادہ عیسائی تھے، ان کے بہت بڑے حصے میں خود اپنی آزادی خریدنے کی قابلیت موجود تھی اور بلیسٹو جس کے پاس شہر کی حفاظت کے واسطے خزانہ موجود تھا، اس کے باشندوں کے ایک حصے کی آزادی حاصل کرنے میں صرف کیا، ملک عادل سلطان کے بھائی نے 2 ہزار قیدیوں کو فدیہ (زر خلاصی یا جزیہ خود اپنے پاس سے ) ادا کیا، صلاح الدین نے اس کی مثال کی پیروی کی اور غریبوں اور یتیموں کی ایک بہت بڑی تعداد کو زنجیروں سے آزاد کر دیا، وہاں قید میں صرف چودہ ہزار کے قریب صلیب کے پجاری رہ گئے جس میں چار یا پانچ ہزار کم سن بچے جو اپنی مصائب سے بےخبر تھے، لیکن جن کی قسمت پر عیسائی اس امر کے یقین سے اور بھی زیادہ نالاں تھے کہ یہ جنگ کے بے گناہ مظلوم (معاذاللہ ) محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بت پرستی میں پرورش پائیں گے۔”

ان حالات کے قلم بند کرنے کے بعد فرانسیسی مؤرخ لکھتا ہے کہ

“بہت سے جدید مؤرخوں یا مصنفوں نے صلاح الدین کے اس فیاضانہ سلوک کو ان نصرت انگیز واقعات کے ساتھ جو پہلے کروسیڈروں سے یروشلم میں داخل ہونے کے وقت پیدا کئے گئے تھے، مقابلہ کیا ہے، لیکن ہم کو نہیں بھولنا چاہئے کہ عیسائیوں نے شہر کو حوالہ کردینے کی درخواست کی تھی اور مسلمان مجنونانہ ہٹ کے ساتھ عرصہ دراز تک محصور رہے تھے اور گاڈ فری کے ہمراہیوں نے جو ایک نامعلوم سرزمین میں معاند قوموں کے درمیان تھے، بے شمار خطرات برداشت کر کے اور تمام قسم کی مصیبتیں اٹھا کر شہر کو مقابلے سے فتح کیا تھا، لیکن ہماری التماس یہ ہے کہ اس بات کے کہنے سے ہم عیسائیوں کو حق بجانب نہیں بیان کرنا چاہیں گے اور نہ ان کی تعریفوں کو ضعیف کرنا چاہتے ہیں جو صلاح الدین کی تاریخ کے ذمہ ہیں اور جو اس نے ان لوگوں سے بھی حاصل کی ہیں جن کو اس نے فتح کیا تھا۔ (تاریخ مچاڈ جلد اول ص:430 تا 432)”

باوجود اس تنگدلی کے جو فرانسیسی مؤرخ کی بجا تعریف میں مضائقہ کرنے سے ظاہر کرتا ہے آخر کار وہ ان کے تسلیم کرنے میں مجبور ہو جاتا ہے، ایک جدید زمانے کا انگریزی مؤرخ اپنی مختصر تاریخ میں اس سے زیادہ انصاف سے سلطان کے ان احسانات کو تسلیم کرتا ہے، وہ لکھتا ہے کہ:

“غریب عیسائیوں کی آزادی خریدنے کی ہر ایک کوشش کرنے اور ہر ایک بازار میں ٹیکس لگانے اور بادشاہ انگلستان کا خزانہ جو اسپتال میں اسی مشترک فنڈ میں داخل کردینے کے بعد بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی رہ گئی جو کوئی فدیہ (جزیہ ) ادا نہیں کر سکتا، جن کی قسمت میں اس صورت میں دائمی غلامی یا موت تھی، ان کی دردناک حالت پر رحم کر کے صلاح الدین کا بہادر اور فیاض دل بھائی عادل، سلطان کے پاس گیا اور شہر کے فتح کرنے میں اپنی خدمات یاد دلا کر عرض کی کہ: ” اس کے حصہ غنیمت میں ایک ہزار غلام اس کو دے دیا جائے ۔” صلاح الدین نے دریافت کیا: ” وہ کس غرض کے لیے انہیں طلب کرتا ہے؟ ” عادل نے جواب دیا: ” جو سلوک وہ چاہے گا ان کے ساتھ کرے گا۔” اس کے بعد بطریق نے جاکر ایسی ہی درخواست کی اور سات سو آدمی پائے اور اس کے بعد بالیان کو 500 اور ملے، تب صلاح الدین نے کہا: ” میرے بھائی نے اپنی خیرات کی ہے، بطریق اور بالیان نے اپنی اپنی کی ہے، اب میں اپنی بھی کروں گا اور اس پر حکم دیا کہ تمام معمر آدمی جو شہر میں تھے آزاد کردیئے جائیں۔” یہ وہ خیرات تھی جو صلاح الدین نے بے تعداد غریب آدمیوں کو چھوڑ دینے سے کی۔” (تاریخ آرچر : ص 280)

مؤرخ لین پول لکھتا ہے کہ:

” ہموجب سلطان کے ان احسانات پر غور کرتے ہیں تو وہ وحشیانہ حرکتیں یاد آتی ہیں جو صلیبوں نے فتح بیت المقدس کے موقع پر کی تھیں، جب گاڈ فری اور تنکیرڈ بیت المقدس کے بازار سے اس حال میں گزر رہے تھے کہ وہ مسلمانوں کی لاشوں سے بھرا ہوا تھا اور جاں بلب زخمی وہاں تڑپ رہے تھے، جب صلیبی بےگناہ اور لاچار مسلمانوں کو سخت اذیتیں دے کر قتل کر رہے تھے، زندہ آدمیوں کو جلا رہے تھے اور القدس کی چھت پر پناہ لینے والے مسلمانوں کو تیروں سے چھلنی کر کے نیچے گرا رہے تھے، بےرحم عیسائیوں کی خوش قسمتی تھی کہ سلطان صلاح الدین کے ہاتھوں ان پر رحم و کرم ہورہا تھا۔”

==================> جاری ہے ۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button