فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (14)

فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (14)

صلیبیوں کو بیت المقدس سے نکالنے کے جہادی مناظر:

امان نامہ پر دستخط ہو جانے کے بعد تمام جنگ کرنے والے لوگوں کو جو یروشلم میں تھے، صور یا طرابلس چلے جانے کی اجازت مل گئی، فاتح نے باشندوں کو ان کی جانیں بخشیں اور ان کو چند دیناروں پر مشتمل حقیر سی رقم کے بدلے اپنی آزادی خریدنے کی اجازت دے دی، تمام عیسائیوں کو باستثنائے یونانیوں اور شامی عیسائیوں کے چار دن تک یروشلم سے چلے جانے کا حکم دیا گیا، (شامی اور یونانی عیسائیوں کے ساتھ قطعی رعایت کی گئی اور ان کو ہر ایک آزادی دی گئی، یہ سلطان کا ایک اور احسان تھا، زر خلاصی (جزیہ ) کی شرح دس دینار ہر ایک مرد کے واسطے پانچ عورت اور دو دینار بچے کے لیے مقرر کیے گئے اور جو اپنی آزادی خرید نہ سکے غلام رہنے کے پابند تھے، ان شرائط پر عیسائیوں نے پہلے بہت خوشی منائی، لیکن جب وہ طے شدہ دن قریب آپہنچا جس پر انہوں نے یروشلم سے رخصت ہونا تھا، بیت المقدس کو چھوڑنے کے سخت رنج اور غم کے سوا ان کو کچھ نہیں سوجھتا تھا، انہوں نے مسیح کی قبر کو اپنے آنسوؤں سے تر کر دیا اور متأسف تھے کہ وہ کیوں اس کی حفاظت کرنے میں نہ مر گئے، انہوں نے کالوری اور گرجاؤں کو جن کو وہ پھر کبھی نہیں دیکھنے والے تھے، روتے اور چلاتے ہوئے جاکر دیکھا، بازوؤں میں ایک دوسرے کو گلے لگایا اور اپنے مہلک اختلافات پر آنسو بہائے اور غم کیا۔

آخر وہ مہلک دن آگیا جب عیسائیوں کو یروشلم چھوڑنا تھا، داؤد کے دروازے کے سوائے جس میں لوگوں کو باہر گزرنا تھا، سب دروازے بند کر دیئے گئے، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ایک تخت پر بیٹھا ہوا عیسائیوں کو باہر جاتے دیکھ رہا تھا، سب سے پہلے بطریق به معیت جماعت پادریان آیا، جنہوں نے مقدس ظروف (یا تصویریں وغیرہ) مسیح کی مقدس قبر کے گرجا کے زیورات یا اسباب زیبائش اور وہ خزانے اٹھائے ہوئے تھے جن کی نسبت ایک عرب مؤرخ لکھتا ہے کہ ان کی قیمت ومالیت اتنی زیادہ تھی ”الله تعالیٰ ہی ان کی قیمت جانتا تھا۔” ان کے بعد یروشلم کی ملکہ، نوابوں اور سواروں (نائیٹس) کے ہمراہ ایک بہت بڑی تعداد عورتوں کی تھی جو گودیوں میں بچوں کو اٹھائے ہوئے تھیں اور بہت درد ناک چیخیں مار رہی تھیں، ان میں سے بہت سی صلاح الدین کے تخت کے قریب گئیں اور اس سے یوں التجا کی:

” اے سلطان! تم اپنے پاؤں میں ان جنگ آوروں کی عورتیں، لڑکیاں اور بچے دیکھتے ہو جن کو تم نے قید میں روک لیا ہے، ہم ہمیشہ کے لیے اپنے ملک کو جس کو انہوں نے بہادری سے بچایا ہے، چھوڑتی ہیں وہ ہماری زندگیوں کا سہارا تھے، ان کو کھو دینے میں ہم اپنی آخری امیدیں کھو چکی ہیں، (یعنی اگر ہمارے مرد آپ کی قید میں چلے گئے اور ہم بچھڑ گئے تو ہماری زندگی کی آخری امید اور سہارا بھی ختم ہو جائے گا )، اگر تم ان کو ہمیں دے دو (یعنی آزاد کردو) تو ہماری جلاوطنی کی مصیبتیں کم ہو جائیں گی اور ہم زمین پر بے یار و مددگار نہ ہوں گے۔”

سلطان ان کی اس درخواست سے متاثر ہوا اور اس قدر دل شکستہ خاندانوں کی مصیبتوں کو دور کرنے کا وعدہ کیا، اس نے بچے ان کی ماؤں کے پاس پہنچا دیئے اور خاوند آزاد کر کے ان کی بیویوں کے پاس بھیج دیئے جو کہ ان قیدیوں میں گرفتار تھے، زر خلاصی (فدیہ یا جزیہ ) ادا نہیں کی گئی تھی، بہت سے عیسائیوں نے اپنے نہایت قیمتی مال و اسباب چھوڑ دیئے تھے اور بعض کے کندھوں پر ضعیف العمر والدین تھے اور دوسروں نے کمزور اور بیمار دوستوں کو اٹھا لیا تھا، اس نظارے کو دیکھ کر سلطان کا دل بھر آیا، لہٰذا اس نے اپنے دشمنوں کے اوصاف کی تعریف کر کے ان کو قیمتی تحائف اور انعامات دیئے، اس نے تمام مصیبت زدہ پر رحم کیا اور ہاسپٹلر (فرقہ استباریہ کے لوگوں) کو اجازت دی کہ شہر میں رہ کر عیسائی حاجیوں کی خبر گیری اور خدمت کریں اور ایسے لوگوں کی مدد کریں جو سخت بیماری کے باعث یروشلم نہیں جاسکتے ہیں۔

==================> جاری ہے ۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button