فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (11)

جہادی جذبوں میں آگ لگادینے والا شعلہ بیان خطاب:

فتح عسقلان کے بعد سلطان نے تمام لشکروں کو جو اطراف و جوانب میں منتشر ہوئے تھے، بیت المقدس کی طرف کوچ کرنے کے لیے جمع کیا اور علماء و فضلاء اور ہر فن اور علم کے اہل کمال کو جو اس عرصہ میں سلطان کی کامیابی کی خبریں سن کر مختلف ممالک و دیار سے اس کے پاس جمع ہو گئے تھے ساتھ لیا اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے ہوئے اس مقدس گھر کی طرف راہی ہوئے، بیت المقدس کے قریب پہنچنے پر جب عیسائیوں کی فوج کے ایک دستہ سے مسلمان لشکر کی ایک بڑھی ہوئی جماعت سے مڈ بھیڑ ہوگئی تو سلطان نے تمام ارکان دولت، اہل شجاعت، شاہزادگان والا مرتبت، برادران عالی ہمت اور تمام امراء اور مصاحبین اور اہل لشکر کا ایک دربار مرتب کیا اور ان سب سے صلاح و مشورہ لیا اور خاتمہ پر ان سب کو خطاب کر کے ایک پراثر تقریر کی اور کہا کہ:

“اگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم نے دشمنوں کو بیت المقدس سے نکال دیا تو ہم کیسے سعادت مند ہوں گے اور جب وہ ہمیں توفیق بخشے گا تو ہم کتنی بڑی بھاری نعمت کے مالک ہو جائیں گے، بیت المقدس 91 برس سے کفار کے قبضہ میں ہے اور اس تمام عرصہ میں اس مقدس مقام پر کفر اور شرک ہوتا رہا ہے، ایک دن بلکہ ایک لمحہ بھی اللہ واحد کی عبادت نہیں ہوئی، اتنی مدت تک مسلمان بادشاہوں کی ہمتیں اس کی فتح سے قاصر رہیں، اتنا زمانہ اس پر فرنگیوں کے قبضہ کا گزر گیا ہے، بس اللہ تعالیٰ نے اس فتح کی فضیلت آل ایوب کے واسطے رکھی تھی کہ مسلمانوں کو ان کے ساتھ جمع کرے اور ان کے دلوں کو ہماری فتح سے رضامند کرے۔

بیت المقدس کی فتح کے لیے ہمیں دل اور جان سے کوشش کرنی چاہئے اور بے حد سعی اور سرگرمی دکھانی چاہیئے، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ جس کی بناء تقوی پر ہے جو انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کا مقام اور پرہیز گاروں اور نیکو کاروں کا معبد اور آسمان کے فرشتوں کی زیارت گاہ ہے۔

غضب کی بات ہے کہ وہاں کفار کا قبضہ ہے، کافروں نے اس کو اپنا تیرتھ بنارکھا ہے، افسوس! افسوس! اللہ کے پیارے بندے جوق در جوق اس کی زیارت کو آتے ہیں، اس میں وہ بزرگ پتھر ہے جس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم معراج پر جانے کا منہاج بطور یاد گار بنا ہوا ہے جس پر ایک بلند قبہ تاج کی مانند تیار کیا ہوا ہے، جہاں سے بجلی کی تیزی کے ساتھ برق رفتار براق پر سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم سوار ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے اور اس رات نے سراج الاولیاء سے وہ روشنی حاصل کی جس سے تمام جہان منور ہو گیا، اس میں سیدنا سلیمان علیٰ نبینا علیہ السلام کا تخت اور سیدنا داؤد علیہ السلام کی محراب ہے، اس میں چشمہ سلوان ہے جس کے دیکھنے والے کو حوض کوثر یاد آجاتا ہے، یہ بیت القدس مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے اور مبارک گھروں میں سے دوسرا اور دو حرمین شریفین سے تیسرا ہے، وہ ان تین مسجدوں میں سے ایک مسجد ہے جس کے بارے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ان کی طرف سفر کیا جائے اور لوگ ارادتمند ی سے وہاں جائیں، کچھ عجب نہیں کہ الله تعالیٰ وہ پاک مقام مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دے کہ اس کا ذکر اس نے کلام پاک میں اشرف الانبیاء کے ساتھ مفصل بیان فرمایا ہے :

سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصی۔

اس کے فضائل اور مناقب بے شمار ہیں، اسی سے رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو معراج ہوئی، اس کی زمین پاک اور مقدس کہلائی، کس قدر پیغمبروں نے یہاں عمریں گزاریں، اولیاء اور شہداء اور علماء و فضلاء اور صلحاء کو تو کچھ ذکر ہی نہیں، یہ برکتوں کی سر چشمہ اور خوشیوں کی پرورش گاہ ہے، یہ وہ مبارک صخرہ شریفہ اور قدیم قبلہ ہے جس میں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور آسمانی برکتوں کا نزول متواتر اس مقام پر ہوا، اس کے پاس رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمام پیغمبروں کی امامت کی جناب روح الامین ہمراہ تھے جب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہیں اعلیٰ علیین کو صعود فرمایا، اسی میں سیده مریم علیہا السلام کی وہ محراب ہے جس کے حق میں پرور دگار عالمین فرماتا ہے:

کلما دخل عليها زکریا المحراب وجد عندها رزقا۔

اللہ کے نیک بندے اس میں تمام دن عبادت کرتے اور راتوں کو بیدار رہتے ہیں، یہ وہی مسجد ہے جس کی بنیاد سیدنا داؤد علیہ السلام نے ڈالی اور سیدنا سلیمان علیہ السلام اس کی حفاظت کی وصیت کر گئے، اس سے بڑھ کر اس کی بزرگی کی دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ پروردگار عالمین نے اس کی تعریف کو (سبحان الذي) سے شروع کیا، سیدنا عمر رضی اللہ نے کمال سعی سے اس کو فتح کیا تھا، کیونکہ اس کی تعریف میں الله تبارک و تعالی نے ایک بزرگ سورہ کو شروع کیا اور قرآن کا نصف بھی وہیں سے شروع ہوتا ہے، پس یہ مقام کیا ہے بزرگ اور عالی شان ہے اور یہ مسجد کیسی عالی قدر اور اکرم ہے جس کا وصف بیان نہیں ہو سکتا، الله تعالیٰ اس کے عُلو شان کو اس طرح بیان فرماتا ہے: (الذی بارکنا حولہ) یعنی یہ وہ مقام ہے جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی اور اپنی کمال قدرت کی آیات اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس مقام پر دکھائیں، اسی مقام کے فضائل ہم نے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنے ہیں جو بذریعہ روایت ہم تک پہنچے ہیں۔”

غرض سلطان نے ایک ایسی مؤثر اور دلکش تقریر کی کہ سامعین خوش ہو گئے اور خاتمہ تقریر پر سلطان نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی کہ جب تک بیت المقدس پر اسلام کے جھنڈے نصب نہ کروں اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدم کی پیروی نہ کروں اور صخره مبارک پر قابض نہ ہو جاؤں، اپنی کوشش کے پاؤں کو نہ ہٹاؤں گا اور اس قَسم کے پورا کرنے تک لڑوں گا۔

مسلمان اور عیسائی مؤرخ اس امر میں متفق ہیں کہ یروشلم میں اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ متنفس موجود تھے جن میں بقول ایک مسلمان مؤرخ 60 ہزار عیسائی جنگ کرنے کے لائق تھے۔ شکستِ حطین کے بعد کوئی عیسائی امیر یا سردار سوائے بطریق یروشلم کے وہاں نہ رہا تھا، بالیان ایک عیسائی سردار بھی حطین کی شکست سے بھاگ کر صور میں جاکر پناہ گزین ہوا تھا، وہاں سے (بقول مؤرخ آرچر ) اس نے سلطان سے اجازت مانگی کہ اس کو اپنی بیوی اور بچے یروشلم میں پہنچادینے کے لیے وہاں سے ایک دن کے لیے جانے دیا جائے اور پختہ اقرار کیا کہ اگر اجازت دے دی گئی تو ایک شب سے زیادہ وہاں نہ ٹھہرے گا، سلطان نے از راہ اخلاق و مروت اس کو اجازت مطلوبہ دے دی، لیکن جب یروشلم میں پہنچ گیا تو لوگوں نے اسے وہیں رہ جانے کی ترغیب دی اور بطریق ہریکلی نے بھی فتوی دے دیا کہ اس اقرار کا پورا کرنا بمقابلہ اس کو توڑنے کے بڑا گناہ ہو گا، چنانچہ وہ بد عہدی کر کے وہاں رہنے کو رضامند ہو گیا اور اس طرح ایک عیسائی سردار یروشلم میں موجود ہو گیا، بطریق اور دوسرے سرگرم عیسائیوں نے موجود عیسائیوں کے در میان جوش اور سرگرمی پیدا کرنے کی ہر ایک تدبیر کی، ان کے در میان نہایت پر جوش تقریریں کیں، ان کی ہمت اور دلیری کو بڑھایا اور شہر کی حفاظت کرنے پر آمادہ کیا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button