فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (10)

صلیبیوں پر صلاح الدین کی مہربانیاں:

آخر ربيع الآخر ۵۸۳ ہجری کے چہار شنبہ کے روز سلطان نے ”عکا“ کی طرف کوچ کیا، یہ مشہور بندر گاہ جو تاجروں اور سوداگروں سے بھری ہوئی تھی اور جس نے بقول مؤرخ مچاڈ کے: ” پچھلے زمانہ میں مغرب کی نہایت طاقتور فوجوں کے حملوں کا تین برس تک مقابلہ کیا تھا۔ ” دو روز بھی سلطان کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکی، سلطان نے اہل شہر کو امان اور آزادی دی کہ اپنے سب سے قیمتی اسباب جو لے جاسکیں لے کر وہاں سے چلے جائیں، جمعہ کے روز سلطان شہر میں داخل ہوا، قاضی فاضل بھی اس موقع پر مصر سے آگئے اور سب سے پہلے نماز جمعہ ساحل کے علاقہ ”عکا” میں پڑھی گئی، اس کے بعد نابلس، حيفا، قیصاریہ، صفوریہ، ناصرہ یکے بعد دیگرے بہت جلد بغیر کسی مزاحمت کے فتح کر لیے گئے اور اسی سلسلۂ فتوحات میں تمام ساحل کو چند ہی ماہ میں سلطانی افواج نے مسخر کر لیا۔

ایک مؤرخ نے ان میں سے بعض مشہور مقامات کے نام به ترتیب ذیل یکجا لکھ دیئے ہیں: طبریہ، عكا، زیب، معلیا، اسکندرونه، تتیین، ناصرہ، عور، صفوریہ، فولہ، جنیسں، ارعین، دیوریہ، عصربلا، بیان، مبسطیہ، نابلس، لجون، اریحا، سنجل، بیره، یافا، ارسوف، قیصاریہ، حیفا، صرفد، صیدا، بیروت قلعه، ابي الحسن، جبیل ،نجدل یا با مجدل، حباب، داروم، عزه، عسقلان، تل صافیہ، تل احمر، اطرو، بیت جریل، جبل الخیل، بیت اللحم، لاب، ریلہ، قریتا، القدس، صوبا، ہرمز، صلح عضوا، شقیف۔

ان مقامات میں سے اکثر تو سلطان نے امن اور مصالحت کے ساتھ لے لیے، ان کے باشندوں کو اپنامال و اسباب لے کر امن سے چلے جانے کی اجازت دی، مصالح ملکی کے لحاظ سے سلطان اپنی نرمی اور ملاطفت کے سلوک میں غلطی کر رہا تھا کہ وہ متفرق باشندوں اور ان کی پریشان طاقتوں کو یکجا جمع ہو جانے اور اس جمعیت سے ایک مضبوط طاقت پیدا کر لینے کا موقع دے رہا تھا، اس خطر ناک غلطی کا اس کو آخر خمیازہ اٹھانا پڑا، مگر کوئی اس قسم کا خیال اس کو اس احسان اور مروت کرنے سے باز نہ رکھ سکا، وہ تمام عیسائیوں کو امن و امان دینے اور صلح کے ساتھ اطاعت کرانے کے لیے تیار رہا، بعض مقامات کے لوگ اس سے مقابلہ کرنے پر تیار ہوئے، مگر ان کو بھی امان دینے کے لیے جب وہ امان مانگیں وہ ہر وقت تیار تھا، مثلا عسقلان کے لوگوں نے جو ایک نہایت مضبوط اور ساتھ ہی نہایت مفید مقام تھا، کیونکہ مصر کے ساتھ براہ راست آمد ورفت کے تعلقات قائم کرنے کا ایک محفوظ اور کار آمد ذریعہ تھا مقابلہ کیا اور جب سلطانی فوج نے قلعہ کو توڑ کر شگاف ڈالا اور سلطان نے باشندوں کو اس وقت بھی امن قبول کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے انکار کیا اور مقابلہ کے ارادہ کونہ چھوڑا، لیکن گائی بادشاہ یروشلم نے جو سلطان کی قید میں سلطان کے ہمراہ تھا، اہل عسقلان کو سمجھایا کہ تم اپنے بچاؤ کی بے فائدہ کوشش میں اپنے اہل و عیال کی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو، اس پر انہوں نے سلطان کے پاس آکر صلح اور امن کی درخواست کی اور سلطان نے بقول مچاڈ: “ان کی شجاعت کی داد دینے میں جو شرائط انہوں نے پیش کیں منظور کر لیں اور اپنے بادشاہ کی نسبت ان کی محبت کے خیالات سے متأثر ہو کر بادشاہ کو ایک سال کے اختتام پر آزاد کر دینے کے لیے رضامند ہو گیا۔“

دس ہزار مسلمان قیدیوں کی صلیبیوں کے ظلم سے رہائی

سلطان کو ان تمام التعداد مسلمان قیدیوں کے آزاد کرنے کا موقع ملا، ایک شہر فتح کرنے کے بعد جو کام سب سے پہلے سلطان کرتا تھا وہ قیدیوں کی زنجیریں توڑتا اور ان کو آزاد کرنا اور کچھ مال و متاع دے کر رخصت کر دینا ہوتا تھا، اس سال میں سلطان نے دس (۱۰) ہزار سے زیادہ مسلمان قیدی آزاد کیے جو مختلف مقامات پر عیسائیوں کی قید میں تھے۔

ساحل کے تمام ممالک کے فتح ہو جانے پر صرف صور اور بیت المقدس عیسائیوں کے ہاتھ میں اور قابل فتح رہ گئے تھے اور یہ سب کچھ بیت المقدس کے واسطے تھا جو کیا گیا تھا، یہ نور الدین رحمہ اللہ کی عمر بھر کی آرزو تھی جس کے پورا نہ کرنے پر سلطان نے اس کو اپنی زندگی کا مقصد اور تمنا قرار دیا تھا اور اسی ایک بڑے مدعا کو پیش نظر رکھ کر اپنے تمام کاموں کی علت ٹھہرایا تھا۔

اسی غرض سے مسلمان حکومتوں کو منتشر طاقتوں اور پریشان اجزاء کو جمع کر کے ایک متحدہ طاقت بنانے کے لیے ایک عرصہ دراز تک لگا رہا اور سر توڑ کوششیں کی تھیں اور یہی دن تھے جن کا انتظار اس نے ایسے صبر اور تحمل کے ساتھ کیا تھا اور جن کے وہ اب اس قدر قریب پہنچ گیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button