فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (07)

فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (07)

معرکۂ حطین میں آگ کا بطور جنگی ہتھیار استعال:

اور یہ بھی اتفاق کی بات تھی کہ وہ علاقہ ایسا تھا جہاں خشک گھانس اور خزاں زده خشک درخت بکثرت موجود تھے اور وہ دن بھی انتہائی زیادہ گرمی والے، لو چلنے کے ایام تھے، مسلمانوں نے اس میں آگ لگادی، آگ بڑھی، شعلے اٹھے، ہوا کا رخ بھی صلیبیوں کی طرف تھا تو اس طریقے سے صلیبیوں پر کئی حرارتیں حملہ آور تھیں، یعنی آگ کی حرارت، دھوئیں کی حرارت، پیاس کی حرارت، قتال کی حرارت اور موسم کی حرارت، سب کی سب اکٹھی ہو گئیں تھیں، اس سے قبل انہوں نے ایسا حال کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ ( کیونکہ یہ صلیبی اکثر سرد اور برفانی علاقوں کے رہنے والے تھے۔)

عبرتناک اور حسرتناک موت کا یقین:

انہیں اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ کوئی راستہ انہیں موت سے بچا نہیں سکے گا، سوائے اس کے کہ اپنے “عقیده” کا، خواہ وہ کیسا بھی ہے، دفاع کرنے والے کی طرح بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے موت کی طرف ہی بڑھا جائے، ادهر اُن مسلمانوں کا کیا جوش اور ولولہ ہو گا جو اپنے سچے عقیدے کے ساتھ لڑ رہے تھے، جن کے گھر بار لوٹ لیے گئے تھے، جن کے علاقے چھین لیے گئے تھے۔

صلیبی ایک بار پھر جمع ہوئے، مسلمانوں پر کئی حملے کئے، قریب تھا کہ مسلمانوں کو ان کی جگہوں سے ہٹا دیتے اگر ان پر اللہ تعالی کی خاص عنایت نہ ہوتی، بس یہ ہوتا رہا کہ ہر بار صلیبی جب حملے سے واپس پلٹے تو مقتولین اور مجروحین کی تعداد میں اضافہ ہی پاتے، یہاں تک کہ کمزور سے کمزور تر ہی بنتے گئے۔

امام ابن الاثیر کے بقول: مسلمانوں نے انہیں دائرے کے محیط کی طرح گھیرے میں لے لیا، کچھ باہر بچے تو وہ حطین کی ایک جانب ایک ٹیلے پر چڑھنے میں کامیاب ہوگئے، وہاں انہوں نے اپنے خیمے نصب کرنے چاہے تو مسلمان ان پر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑے، اکثر کو واصل جہنم کیا، پھر بھی وہ ایک خیمہ نصب کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے اور وہ بھی اپنے بادشاہ کا خیمہ ۔۔۔۔۔

صلیب اعظم پر مجاہدین کا قبضہ

مسلمانوں نے دریں اثناء ان سے اس صلیب اعظم کو چھین لیا جس کو “صليب الصلبوت“ کہتے تھے، اس صلیب کا مسلمانوں کے قبضہ میں آجانا ان کے لیے سب سے بڑی پریشانی بن گئی، اوپر سے اللہ کا شکر یعنی مسلمان انہیں تہ تیغ کیے جارہے تھے اور بے شمار کو قیدی بھی بنارہے تھے، یہاں تک کہ اس ٹیلے پر بادشاہ کے خواص اور بہادر تقریباً ڈیڑھ سو گھوڑ سوار باقی رہ گئے۔

صلیبی بادشاہ کے خیمے کی تباہی اور سجدہ میں شکرانہ کے آنسو

یہاں سے ہم صلاح الدین کے بیٹے سلطان فضل کی بات آپ کے سامنے رکھتے ہیں جو اس نے معرکہ کے اس مرحلہ سے متعلق اپنی عینی شہادت کے طور پر بیان کی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ میں بھی اس معرکہ میں اپنے ابو کے ہمراہ تھا، ان فرنگیوں نے اپنے مد مقابل مسلمانوں پر ایک بارگی ایک بڑا خطرناک حملہ کیا، یہاں تک کہ انہیں میرے ابو کے قریب تک لے آئے، میں نے اپنے ابو جان کی طرف نگاہ اٹھائی تو چہرے پر پریشانی اور غصے کے آثار دیکھے، انہوں نے اپنی ریش مبارک کو پکڑا اور نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے، مسلمانوں نے ان کی پیروی کی، فرنگی شکست کھا کر پیچھے ہٹے اور ایک ٹیلے تک پہنچ کر پناہ گزین ہوئے، میں اس دم زور زور سے چلا رہا تھا: ”ہم نے انہیں ہرا دیا، ہم نے انہیں شکست دے دی۔”

فرنگی دوبارہ پلٹے، دوسری بار پھر حملہ آور ہوئے، انہوں نے اپنے سامنے والے مسلمانوں کو پھر میرے ابو تک پہنچا دیا، میرے ابو جان نے دوبارہ پہلے کی طرح کیا، مسلمان بھی ان کے ساتھ ہی جھپٹے اور یوں دوبارہ انہیں اس ٹیلے تک پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، دراصل سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ اپنا یہ فعل و عمل اس انداز سے کر رہے تھے جس انداز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم بدر میں کیا تھا، جیسا کہ سیدنا علی بن ابی طالب روایت بیان کرتے ہیں: ”جب لڑائی اپنے جوبن پر ہوتی، آنکھیں جوش انتقام میں سرخ ہو چکی ہوتیں تو لوگ آپ کے پاس آکر اپنے آپ کو بچایا کرتے تھے، لڑائی کی اس حالت میں آپ دشمن کے قریب تر ہوا کرتے تھے۔

یہ بات کوئی قابل تعجب بھی نہیں، بلکہ ایسے مرحلے میں ایک حقیقی مؤمن سپہ سالار کو جو صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ جیسا ہو اسے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی ہی کرنی چاہیے، جب مسلمان دوسری مرتبہ فرنگیوں پر جھپٹے افضل پھر چلانے لگا: ”ہم نے انہیں شکست دے دی، ہم نے انہیں ہر ادیا۔ !! تو اس کا باپ ( سلطان ) اس کی طرف پلٹا اور اسے کہا: ”چپ ہوجا، جب تک اس خیمہ کو اکھاڑ نہ لیں ہم نے انہیں شکست نہیں دی، یہ صلیبی بادشاہ کے اس خیمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ٹیلے پر نصب کیا گیا تھا، صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے ابھی اپنا یہ جملہ پورا بھی نہ کیا تھا کہ مجاہدین کی طرف سے اس خیمے کو زمین بوس کیا جا چکا تھا، سلطان یہ دیکھتے ہی اپنے گھوڑے سے نیچے اترا اور بارگاہ الہی میں سجدہ شکر ادا کیا، اس کے ساتھ ہی جو اللہ نے مسلمانوں پر انعام فرمایا تھا، آپ کے گندم گوں رخساروں پر خوشی و انبساط کے آنسو موتی بن کر بہہ رہے تھے۔

اللہ اکبر! یہ یاد گار معرکہ فلسطین کی صلیبی ریاستوں کے مکمل خاتمے اور بیت المقدس کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوا، اس معرکہ کے متعلق مغربی مؤرخ لین پول لکھتا ہے: ”کٹے ہوئے سر خربوزوں کی فصل کی مانند ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔“

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button