اتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (06)

حطین میں صلیبیوں پر قہر وغضب

حطین بحیرہ طبریہ کے مغربی جانب واقع ہے جو اب مقبوضہ فلسطین میں ہے، یہ ایک سرسبز وشاداب بستی ہے جس میں پانی کی فراوانی بھی ہے، اس میں جیسا کہ زبان زد عام ہے کہ شعیب علیہ السلام کی قبر بھی موجود ہے، اس بستی کے قریب ہی سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا صلیبیوں سے ایک خونریز معرکہ ہوا تھا وہ کس طرح ہواتھا؟ ابھی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں۔

۵۸۳ھ میں ماہ ربیع الاول کی ۲۴ تاریخ کو بروز ہفتہ یہ معر کہ بپاہوا، اس معرکہ سے قبل صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی حالت مضبوط قوت بازو، توانا لشکر جرار اور لوگوں کا جم غفیر اس کے ایک اشارہ پر آبرو اسلام پر جانثار ہونے کو تیار تھا، سلطان صلاح الدین نے الله تعالیٰ کی عطاء کردہ ان تمام نعمتوں اور قوتوں کو صلیبیوں کے مقابلے میں کرناچاہا، تاکہ ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے۔

پیاس کی شدت کا عذاب اوپر سے مجاہدین کی یلغاریں:

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو یہ خبر ملی تھی کہ “صفوریہ ” کی چراگاہ میں صلیب کے پجاری اپنے لاؤ لشکر سمیت اکھٹے ہو رہے ہیں، سلطان اپنے لشکروں سمیت حطین کے علاقے بحیرہ طبریہ کے غربی پہاڑ پر ان کے قریب ہی خیمہ زن ہوا، اس نے صلیبیوں کو ابھارا اور انہیں وہاں سے نکال کر ایسے علاقے میں لانے میں کامیاب ہو گیا جہاں پانی نہ تھا، راستوں میں جو چند چشمے اور تالاب تھے ان کو بھی مسلمان مجاہدین نے ناقابل استعمال بنا دیا تھا۔

جب مسلمان اور صلیبی ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو شدت پیاس سے صلیبی بہت تنگ ہوئے، اس کے باوجود وہ اور مسلمان ڈٹ کر لڑتے رہے، بہادری اور صبر سے داد شجاعت دیتے رہے، مسلمانوں کے مقدمة الجیش یعنی سپاہ کے اگلے دستے بلندی پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد انہوں نے ان اللہ کے دشمنوں پر تیروں کی بوچھاڑ سے وہ بارش برسائی کہ وہ منتشر ٹڈی دل کا حملہ ہو، اس سے دشمن کے ان گنت گھوڑ سوار واصل جہنم ہوئے، اس دوران صلیبیوں نے بارہا پانی والی جگہ کی طرف بڑھنے کی کوششیں کیں، کیونکہ وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ صرف شدت پیاس ہی کی وجہ سے وہ کثیر تعداد میں مر رہے ہیں، اس بیدار مغز قائد و سپہ سالار نے ان کے ارادوں کو بھانپ لیا تو وہ ان کے اور ان کی مطلوبہ چیز یعنی پانی کے درمیان حائل رہا اور ایسے ہی ان کی شدت پیاس کو بر قرار رکھا ۔۔۔

جوشِ جہاد اور طلب شہادت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر:

پھر خود بنفس نفیس طوفانی موجوں کی طرح مسلمانوں کے پاس پہنچ پہنچ کر انہیں ابھارتا رہا جو اس شہادت کے صلے میں انہیں اللہ کے پاس ملنے والا تھا اس کی رغبت دلاتا رہا، شوق جہاد پیدا کر تا رہا، ان صابر اور صادق مجاہدین کےلئے اللہ تعالیٰ کی تیار شدہ نعمتوں کو یاد دلاتا رہا تو مسلمانوں کی حالت دیدنی بن گئی کہ وہ موت یعنی مرتبہ شہادت کے حصول کے لیے دیوانہ وار آگے بڑھنے لگے، جوں جوں اپنے سالار کی حالت کو دیکھتے اور اس کی ایمان افروز باتوں کو سنتے تو ظاہری زندگی سے دست کش ہو کر جنت کی طرف لپکنے لگے، گویا کہ اپنی زبان حال سے یوں پکار رہے ہوں کہ: “ہمیں ان صلیبیوں کی صفوں کے پیچھے جنت مل رہی ہے۔”

اچانک ایک نوجوان بجلی کی طرح تلوار لیے نکلتا ہے:

چشمِ زدن میں ایک نوجوان مسلمانوں کی صفوں سے بجلی کی طرح نمودار ہوا اور صلیبیوں کی صفوں کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہو گیا جیسے موت پر بیعت کرنے والے لڑتے ہیں، ایسی بے جگری سے لڑا کہ دشمن حیران و ششدر رہ گیا، پھر دشمن اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے شہید کر دیا، اس کا شہید ہونا کیا تھا کہ پٹرول کے خزانوں میں آگ سلگادی گئی ہو، مسلمان طیش میں آگئے، ان کے سینوں میں جوش انتقام کا طوفان ٹھاٹھیں مارنے لگا، لہذا انہوں نے ایسا نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ جسے کائنات کے کناروں نے سنا ہو گا اور آفاق عالم نے جس کا جواب دیا ہوگا، پھر مسلمانوں نے صلیبیوں پر وہ پُر خلوص فدائیانہ اور جانثارانہ حملے کیے جنہوں نے صلیبیوں کی صفوں کو تتر بتر کر کے رکھ دیا، صلیبی فوج کے سربراہ ” الکونثار ریمنڈ“ کا دل مایوسی اور نا امیدی سے بھر گیا، اس نے میدان جنگ سے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ اس نے اپنا ایک گھوڑ سوار دستہ اکھٹا کیا اور قریبی مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تا کہ بھاگنے کے لیے کوئی راستہ بنا سکے، لیکن اس جانب سلطان صلاح الدین ایوبی کا بھتیجا تقی الدین عمر مقرر تھا، جب اس نے دیکھا کہ وہ ایک مصیبت زدہ اور مایوس آدمی کے حملہ کرنے کی طرح حملہ آور ہیں، کوئی راہ فرار چاہتے ہیں تو اس نے انہیں بھاگنے کی راہ دے دی، انہوں نے جان کی امان میں ہی عافیت جانی اور دم دبا کر بھاگ نکلے، وہ ایسے بھاگ رہے تھے کہ پلٹ کر بھی نہ دیکھتے تھے، کیونکہ ان کی مطلوب ایک ہی چیز تھی کہ بھاگو بھاگو اور جان بچاؤ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button