فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (05)

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ عَلم جہاد تھامتے ہیں

سلطان نورالدین محمود زنگیؒ کے بعد ان کے شاگرد رشید ناصر یوسف صلاح الدین نے بیت المقدس اور فلسطین کو آزاد کروانے کے لیے پھر سے اس علم جہاد کو اٹھالیا ۔۔۔ صلاح الدین کی شخصیت میں تقریباً تمام اسلامی محاسن و خصائل کوٹ کوٹ کر بھر دیئے گئے تھے، اس میں بردباری و پرہیز گاری، ارادے کی پختگی و پیش قدمی دنیا سے بے رغبتی اور سخاوت ومہارت، سیاسی و تدبیر عملی، ہمہ وقت جہاد کے لیے کمر بستہ، علم دوستی اور علماء کی قدر دانی جیسی اعلیٰ صفات قابل رشک تھیں۔

یقیناً جن کو اللہ تعالی اپنے دین کی سر بلندی، اپنے دشمنوں کی سرکوبی کے لیے چن لیتا ہے، ان میں یہ صفات لازمًا موجود ہوتی ہیں جو اپنا حصہ ڈال کر تاریخ اسلام کا رخ صحیح جانب موڑ دیتے ہیں، سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی شخصیت اسلامی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش مقام رکھتی ہے، ان کی زندگی کا ہر لمحہ جہاد مسلسل سے عبارت تھا، انہوں نے دین مبین کی سر بلندی، کفر سے جہاد اور بیت المقدس کی بازیابی کے لیے انتھک جد وجہد کی اور اللہ بزرگ و برتر نے انہیں ان کے ارادے میں کامیاب کیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کا تعلق کرد قوم سے تھا جو شام، عراق اور ترکی کی جنوبی سرحدوں میں پائی جاتی ہے، ان کے والد نجم الدین ایوب مشرقی آذربائیجان کے ایک گاؤں ”ودین” کے رہنے والے تھے، بعد میں وہ شام آکر عمادالدین زنگی کی فوج میں شامل ہو گئے، ان کے بھائی اسد الدین شیر کوہ بھی ان کے ساتھ تھے، دونوں نے اپنی صلاحیتوں کی بناء پر نمایاں ترقی کی، نجم الدین ایوب کے بیٹے ہونے کی حیثیت سے صلاح الدین ایوبی کے لیے بھی ترقی کے راستے کھل گئے، سلطان نور الدین زنگی نے ان کی قابلیت دیکھتے ہوئے مصر کی فتح کے لیے انہیں اسد الدین شیر کوہ کا دست راست بناکر روانہ کیا۔

مصر پر قبضہ کے کچھ عرصے بعد جب شیرکوہ نے وفات پائی تو نورالدین زنگی کے نائب کی حیثیت سے صلاح الدین ایوبی نے وہاں کی حکومت سنجال لی، ۵۵۹ھ میں سلطان نورالدین زنگی کی وفات کے بعد صلاح الدین ایوبی مصر کے خود مختار حاکم بن گئے، بعد ازاں انہوں نے دمشق اور شام کی چند دیگر چھوٹی چھوٹی کمزور مسلم ریاستوں کو بھی اپنی تحویل میں لے کر ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی جو صلیبی حکمرانوں کی متحدہ طاقت کا مقابلہ کرنے اور انہیں اسلامی مقبوضات سے نکالنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی تھی۔

اس سے قبل سلطان کی زندگی ایک عام سپاہی کی سی تھی، مگر حکمران بننے کے بعد ان کی طبیعت میں عجیب تبدیلی پیدا ہوئی، انہوں نے راحت و آرام سے منہ موڑ لیا اور محنت و مشقت کو خود پر لازم کر لیا، ان کے دل میں یہ خیال جم گیا کہ اللہ کو ان سے کوئی بڑا کام لینا ہے جس کے ساتھ عیش و آرام کا کوئی جوڑ نہیں، وہ اسلام کی نصرت و حمایت اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کمر بستہ ہو گئے، ارض مقدس کو صلیبی جنگجوؤں کے وجود سے پاک کرنا انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔

صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران اسی کام کے کرنے کی کوشش کی، اس کی شخصیت میں موجود خصائص و کمالات کا بھی یہی تقاضا تھا کہ تاریخ اسلام میں ہمیشہ باقی رہنے والے کچھ شاندار اور عالی شان کارنامے سرانجام دے لے۔ تو قصہ مختصر! اس کے کچھ ایسے ہی اعمال اور کارناموں کو ہم اگلی قسط میں بیان کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button