فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (04)

عماد الدین زنگی کے ہاتھوں صلیبیوں کی ٹھکائی

ان کربناک حالات میں الله تعالیٰ نے ایک ترکی نوجوان عماد الدین زنگی کو اس کام کے لیے حوصلہ بخشا، یہاں تک کہ ۵۲۱ھ میں موصل کی چھوٹی سی ریاست اس کے ہاتھ لگ گئی، پھر اس نے بتوفیق الہی اپنی شان عبقری جرأت و ہمت، جذبہ ایمانی اور غیرت اسلامی کے جذبوں سے سرشار ہو کر مسلمانوں کی آرزوؤں اور تمناؤں پر لبیک کہتے ہوئے اس مشکل کام کا بیڑہ اٹھایا، اپنی مختصر سی اسٹیٹ کو اس طرح وسیع کیا کہ حلب، حماة اور حمص کے علاقے اپنے ساتھ ملا لیے، جس سے ایک چھوٹا سا متحدہ اسلامی بلاک بن گیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس جہاد کی برکت سے ”الرها“ کا علاقہ صلیبیوں سے واگزار کروالیا اور ۵۳۹ھ بمطابق ۱۱۳۴ء میں عیسائیوں کی اس حکومت کو ختم کر دیا تو مسلمانوں نے کسی حد تک راحت و اطمینان کا سانس لیا، ان کی خود اعتمادی پلٹ آئی، انہوں نے ”الرها ” شہر پر اپنے دوبارہ قبضے کو ” فتح الفتوح ” کا نام دیا۔

عماد الدین زنگی کے پے در پے حملوں نے عیسائی دنیا کے فاتحین کے دماغ سے تمام اسلامی دنیا کو زیر نگیں کرنے کا خیال رخصت کر دیا اور وہ فلسطین اور شام کی مقبوضات کے دفاع کو اپنی بڑی کامیابی سمجھنے لگے، تاہم عماد الدین زنگی رحمہ اللہ نے ان کی یہ خام خیالی بھی دور کر دی اور حصن بارین ”بعلبک “ اور ”الرھا“ کے اہم مراکز ان کے قبضے سے آزاد کرالیے، پھر وہ اس اسلامی بلاک کی توسیع میں مسلسل کوشاں رہا، اس نے اپنی جہادی یلغاروں کو جاری رکھا، یہاں تک کہ اس نے ان دخل انداز غاصب صلیبیوں کے ناپاک وجود کو ہلا کر رکھ دیا، بالآخر ۵۳۱ھ میں ”جعبر“ نامی قلعے کے محاصرے کے دوران امت مسلمہ کا یہ عظیم سپہ سالار اور مجاہد شہید کر دیا گیا۔ (انالله وانا الیہ راجعون)

نورالدین محمود رحمہ اللہ اور اس کے جہادی عزائم

پھر اس کے ہونہار سپوت نور الدین محمود رحمہ اللہ نے اس عَلم کو اٹھایا، اللہ تعالیٰ نے اسے صلیبیوں کے ساتھ جہاد کا سچا جذبہ عطا فرمایا، اس نے کتنے ہی قلعے اور شہر صلیبیوں کے قبضے سے واپس لیے، الله تعالیٰ بھی اسے اس کی خلوص نیت اور رفتار عمل جہاد کی نسبت سے اپنی مدد خاص سے نوازتا رہا، یہاں تک کہ اس نے القدس شہر صلیبیوں سے چھڑوانے کا مصمم اراده کر لیا، یہاں تک ہی نہیں بلکہ اس نے بیت المقدس میں رکھوانے کے لیے ایک منبر بھی بنوایا، کاریگروں کو انتہائی مہارت اور دلچسپی سے بنانے کا حکم دیا، بڑھئی حضرات کو یوں سمجھایا کہ ہم نے اسے بیت المقدس کی زینت بنانا ہے، لہذا اپنے فن کی مہارتوں کی انتہاء کر دو، پانچ کاریگروں نے کئی سالوں کی محنت شاقہ سے اسے تیار کیا، امام ابن الاثیر “الکامل “ میں اس پر یوں رقمطراز ہیں:

”افجاء على نحو لم یعمل في الاسلام مثله۔”

”کہ یہ ایسا کارنامہ ہے جو اس سے قبل کوئی مسلمان انجام نہ دے سکا تھا۔”

ان کوششوں کے ساتھ ساتھ اس نے اسلامی بلاک کو متحد اور بیدار رکھنے کی کاوشیں بھی تیز تر کردیں، جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بکھری ہوئی چھوٹی چھوٹی من پسند قلعوں اور شہروں کی حکومتوں کی بجائے ایک طاقتور جہاد کو جاری رکھنے والی سلطنت عطا فرمائی، جزیرة فراتیه، سوریه، (یعنی شام) اردن، مصر، حجاز اور یمن اس سلطنت کے مضبوط پائے تخت سمجھے جانے لگے ۔۔۔

سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ نے صلیبیوں سے جہاد کا عَلم سنبھال لیا اور اپنے مسلسل حملوں سے تمام دنیائے عیسائیت کو بد حواس کر دیا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ نورالدین زنگی کی قیادت میں مسلمان جلد یا بدیر بیت المقدس کو بازیاب کرالیں گے، اس خطرے کو بھانپ کر جرمنی کے بادشاہ کونراد ثالث اور فرانس کے تاجدار لوئی ہفتم نے مشتر کہ تیاری کے ساتھ ایک ٹڈی دل لشکر ترتیب دیا اور ۵۴۲ھ ۱۱۴۷ء میں عالم اسلام پر چڑھائی کردی، سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ نے مومنانہ شجاعت اور غیر معمولی استقامت کے ساتھ دو سال تک ان کا بھر پور مقابلہ کیا اور انہیں عبرتناک شکست دے کر واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔

عیسائی حملہ آوروں کی اس دوسری مشتر کہ یلغار کو تاریخ میں دوسری صلیبی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، چند سال بعد سلطان نورالدین زنگی نے ایک زبردست معرکے میں دس ہزار صلیبی جنگجوؤں کو تہ تیغ کر کے ان کے اہم مرکز قلعہ حارم پر قبضہ کر لیا، بعد ازاں دنیائے عیسائیت کے مقابلے میں مضبوط مورچے تیار کرنے کے لیے انہوں نے دمشق اور مصر کو بھی زیر نگیں کر لیا، رمیاط اور اسکندریہ کی بندرگاہوں پر تسلط کے بعد انہوں نے یورپ کے بحری راستے سے شام اور بیت المقدس کے عیسائیوں کی کمک کا راستہ بند کر دیا، سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے اپنی تیاریوں کو آخری شکل دے رہے تھے کہ ان کا وقت موعود آگیا۔

کاش! ذات باری تعالیٰ اسے پورے عالم اسلام کو متحد کرنے کے لیے کچھ مہلت اور دے دیتی ۔۔۔ وجود اسلامی کے ایک ایک رگ ور پیشے میں روح اسلام کو سرایت ہو لینے دیتی ۔۔۔ القدس شہر کو فتح ہو لینے دیتی۔۔۔ مسجد اقصیٰ میں اس منبر کو نصب ہو لینے دیتی ۔۔۔ افسوس! کہ موت نے اسے مہلت نہ دی اور پھر موت بھی اس حالت میں کہ ۵۶۹ھ میں قلعہ دمشق کے ایک معمولی سے کمرہ میں یہ اللہ کا مجاہد و عاجز بندہ اللہ رب العزت کی بارگاہ اقدس میں مصروف عبادت تھا، ابھی اس نے اپنی عمر کی ساٹھ بہاریں ہی دیکھیں تھیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button