عثمان خان کے بعد اس کا بیٹا ارخان تخت نشین ہوا

عثمان خان کے بعد اس کا بیٹا ارخان تخت نشین ہوا جو دوسرا عثمانی سلطان ہے، ارخان کا تذکرہ لکھنے سے پیشتر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ رومی سلطنت کا مجمل تذکرہ کردیا جائے، تاکہ ان حالات اور ان فتوحات کے سمجھنے میں آسانی ہو جو ارخان کے عہد حکومت میں وقوع پزیر ہوئے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پونے چھ سو سال پیشتر ملک اطالیہ کے اندر سلویا نامی ایک کنواری لڑکی کے پیٹ سے دو توام لڑکے پیدا ہوئے، ایک کا نام رومولس اور دوسرے کا نام ریموس رکھا گیا، بڑے ہوکر ان دونوں بھائیوں نے ایک شہر کی بنیاد رکھی، یہ شہر روم یا روما کے نام سے موسوم ہوا اور ان کی اولاد میں ایک ایسی عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی جو دنیا کی عظیم و مہیب سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے، شہر روما آج کل بھی ملک اٹلی کا دارالسلطنت ہے، مگر رومولس اور ریموس کی قائم کی ہوئی رومن سلطنت کا اب نام و نشان باقی نہیں رہا۔

یہ سلطنت جب اپنے انتہائی عروج کو پہنچ گئی تو اس کے دو ٹکڑے ہوگئے، ایک کو مشرقی روم اور دوسری کو مغربی روم کہتے تھے، مغربی روم کا دارالسلطنت تو شہر روما ہی ہے اور مشرقی روم کا دارالسلطنت قسطنطنیہ قرار پایا، مغربی روم پر شمالی یورپ اور روس کی وحشی قوموں نے بار بار حملے کرکے اس کو بے حد کمزور وناتواں بنادیا اور بالآخر مغربی روم کی سلطنت محدود ہوکر دو حصوں میں منقسم ہوگئی، جنیوا اور وینس میں الگ الگ سلطنتیں قائم ہوئیں اور پھر وہ بھی مختلف صورتوں میں تبدیل ہوکر معدوم ہوئیں اور ان کی جگہ نئی حکومتیں قائم ہوگئیں، مگر مشرقی روم پر شمالی حملہ آوروں کی آفتیں بہت ہی کم نازل ہوئیں اور اس کو یورپی وحشیوں کے ہاتھ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا، ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ قسطنطنیہ کے بادشاہ کا شہر روما پر بھی عمل دخل ہوگیا تھا۔

عرب اور ایران والے مغربی روم سے تو ناواقف تھے جس کے نام پر سلطنت روم موسوم تھی، وہ مشرقی روم کو جانتے تھے، مشرقی روم یعنی قسطنطنیہ کے فرماں رواؤں نے عیسائی مذہب قبول کرکے اس کی اطاعت شروع کی تو یورپ کی تمام وہ قومیں جو عیسائی مذہب قبول کرتی تھیں، قسطنطنیہ کے بادشاہ کو عزت و عظمت کی نظر سے دیکھتی تھیں، یہاں تک کہ قریباً تمام یورپ عیسائی مذہب میں داخل ہو گیا، اور اسی لیے قیصر روم کو یورپ میں خصوصی وقار حاصل ہوا، جب قسطنطنیہ کا دربار عیسائی ہو گیا اور اس کے مقبوضہ ممالک میں عیسوی مذہب پھیل گیا تو عرب و ایران کے لوگ ہر ایک عیسائی کو رومی کے نام سے یاد کرنے لگے، قسطنطنیہ کے قیصر کی سلطنت چونکہ یونان کی شہنشاہی کے کھنڈروں پر تعمیر ہوئی تھی اور قیصر روم سکندر یونانی کے مقبوضہ ممالک کا مالک تھا، لہٰذا قسطنطنیہ کی سلطنت کو یونانی سلطنت بھی کہا جاتا تھا، اسی لیے مؤرخین نے رومی اور یونانی دونوں الفاظ مترادف اور ہم معنیٰ سمجھ کر استعمال کیے ہیں۔

قیصر قسطنطنیہ کی سلطنت میں چونکہ ایشیائے کوچک اور شام کا ملک بھی شامل تھا، اس لیے اسلام کے ابتدائی زمانے میں ایشیائے کوچک کو روم کا ملک کہا جاتا تھا، ملک شام سے تو عیسائی حکومت بہت جلد اٹھادی گئی تھی، مگر ایشیائے کوچک میں قیصرِ روم کی حکومت عہدِ اسلامیہ میں بھی عرصہ دراز تک قائم رہی، اس لیے ایشیائے کوچک کو عام طور پر ملک روم کہا جانے لگا۔

جب سلجوقیوں کی ایک سلطنت ایشیائے کوچک کے ایک حصہ میں قائم ہوئی تو اس کو ملک روم کی سلجوقی سلطنت کہا گیا اور اس سلطنت کے سلاطین سلاجقہ روم کے نام سے پکارے گئے، ان سلاجقہ روم کے بعد عثمان خان اول نے اپنی سلطنت، سلطنت ایشیائے کوچک میں قائم کی اور قریباً تمام ایشیائے کوچک پر قابض ہوگیا تو وہ بھی سلطان روم کہلایا، پھر اس کے بعد سے آج تک عثمانی سلاطین سلطان روم ہی کہلائے جاتے ہیں۔

قسطنطنیہ کے قیصر نے جب عیسوی مذہب قبول کیا تو اس عیسوی سلطنت اور ایران کی مجوسی سلطنت میں بار بار لڑائیاں ہوئیں، ان لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ملک عرب میں اسلامی سلطنت نے قائم ہوکر مجوسیوں اور عیسائیوں کو مبہوت کردیا، مجوسی سلطنت تو پاش پاش ہوکر معدوم ہو گئی، لیکن قسطنطنیہ کی عیسائی سلطنت عرصہ دارز تک قائم رہی، ہم جس زمانے کی تاریخ بیان کر رہے ہیں اس زمانے میں بھی یہ عیسائی سلطنت موجود ہے، خلفائے راشدین کے عہدِ سعادت میں شام و فلسطین ومصر سے قیصر روم کی عیسائی حکومت بالکل مٹادی گئی تھی، اس کے بعد خلفائے بنو امیہ اور خلفائے بنو عباس کے زمانے میں قیصرِ روم کے ساتھ برابر لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جس کا مختصر طور پر خلفاء کے حالات میں کہیں کہیں ذکر آتا رہا ہے۔

ایشیائے کوچک کا ایک ملک قریباً سات سو سال سے برابر مسلمانوں اور عیسائیوں کا میدان جنگ بنا ہوا تھا، کسی زمانے میں مسلمانوں کو دھکیلتے ہوئے در دانیال اور بحیرہ مار مورا تک لے جاتے تھے اور کبھی عیسائی مسلمانوں کو ریلتے ہوئے ایران و کردستان تک چلے آتے تھے، عیسائیوں کی اس سلطنت کو قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں دیر تک زندہ رہنے کا اس لئے موقع مل گیا کہ آپس کی نااتفاقیوں اور خانہ جنگیوں سے مسلمانوں کو ایسا موقع میسر ہی نہ آیا کہ وہ اس عیسائی رومی سلطنت کا قصہ پاک کرتے۔

اس رہے سہے کام کو ترکانِ عثمانی نے پورا کیا اور اسی لئے وہ عالمِ اسلام کے محبوب و مقتدا سمجھے گئے، ہم جس زمانے کا ذکر کر رہے ہیں، یہ وہ زمانہ ہے کہ یورپ کے صلیبی سیلاب شام و فلسطین کے میدانوں میں بار بار موج زن ہوچکے ہیں، عیسائیوں کے مجاہدین (نائٹس، خصوصی فورس) مسلمانوں کے مقابلے میں شکست پاپا کر اور مسلمانوں کی علمی و اخلاقی ترقیات سے متأثر ہو ہوکر یورپ میں واپس جاکر اور یورپ کے تمام ملکوں میں پھیل کر عیسائی ممالک کو بیدار اور ترقی کی طرف مائل و متوجہ کر چکے ہیں، اس زمانہ کی نسبت عیسائیوں کا یہ کہنا کہ رومی سلطنت بہت ہی غافل اور کمزور تھی، سراسر غلط ہے۔

عیسائیوں میں مسلمانوں کی مخالفت کے لئے اتفاق اور جوش بہ درجہ اتم پیدا ہو چکا تھا، قسطنطنیہ کا دربار سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا، قسطنطنیہ کی سلطنت نسبتاً سب سے زیادہ طاقتور اور فنونِ جنگ سے واقف اور مقابلہ کی اہلیت رکھتی تھی، اس سے پہلے زمانے میں یورپ کی دوسری سلطنتیں قسطنطنیہ کی سلطنت سے رقابت بھی رکھتی تھیں، لیکن لڑائیوں کے بعد تمام یورپ کی ہمدردی قسطنطنیہ کے قیصر سے متعلق تھی، قیصر قسطنطنیہ کے تعلقات صرف یورپ کے سلاطین تک محدود نہ تھے، بلکہ وہ مسلمانوں کے ہر ایک دشمن کو اپنا دوست سمجھ کر اس سے محبت و مودت کے تعلقات رکھتا تھا، چنگیز خان اور اس کی اولاد کو فاتح اور نامسلمان دیکھ کر قیصر قسطنطنیہ کے سفیر منگولوں کے دربار میں قراقورم اور چین تک پہنچے ہوئے تھے اور ابھی آگے چل کر معلوم ہوگا کہ قسطنطنیہ کے فرماں روا کو اس میں بھی تأمل نہ تھا کہ وہ اپنے مد مقابل اور حریف کو اپنی بیٹی دے کر اپنا موافق بنانے کی کوشش کرے اور اس کے خطرہ سے محفوظ ہو جائے اور اپنا کام نکال لے۔

مسلمانوں کی جمعیت میں پھوٹ ڈال کر ان کو کمزور و برباد کر دینے کی حکمت عملی کچھ ہمارے موجودہ زمانے کے عیسائیوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس حکمت عملی پر قیصر قسطنطنیہ نے بارہا عمل کیا ہے اور وہ ہر زمانے میں نہایت چوکس اور مستعد نظر آیا ہے۔

(عیسائیوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو زیر کرنے اور انہیں اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ہمیشہ سازشوں اور دھوکہ دہی سے کام لیا ہے، یہ باطل کی پہچان ہے کہ وہ دھوکہ و فریب اور سازشوں سے کام لے کر لوگوں کو گمراہ کرتا ہے، حق اور طاقتور دلائل اپنا آپ منواتے ہیں اور یہ چیزیں عیسائیوں کے پاس موجود نہیں۔)

مسلمان اگر آپس کی خانہ جنگی کو چھوڑ دیں اور متفق ومتحد ہوکر دشمنانِ اسلام کے مقابلے پر مستعد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کے مقابلے پر قائم نہیں رہ سکتی اور اس کو لازماً مغلوب و محکوم ہی ہونا پڑے گا، عثمان خان اور اس کی اولاد نے اس حقیقت کو خوب اچھی طرح سمجھ لیا تھا، اسی لئے انہوں نے خانہ جنگی اور اپنے مسلمان رقیبوں کے مقابلے سے اپنا پہلو ہمیشہ بچایا اور اپنے آپ کو حتی المقدور عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے مستعد رکھا، چنانچہ وہ اس عظیم الشان کام کو انجام دے سکے جو ان کے متقدمین سے انجام پزیر نہ ہو سکا، آئیندہ قسط میں ہم عثمان خان کے بیٹے ارخان کے احوال کا تذکرہ کریں گے، ان شاءالله

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button