سلطنتِ عثمانیہ کا بانی عثمان خان کون تھا

 سلطنتِ عثمانیہ کا بانی عثمان خان کون تھا

 سلطنتِ عثمانیہ کا بانی عثمان خان کون تھا

ھ600  میں غیاث الدین کیخسرو منگولوں کے ایک ہنگامہ میں مقتول ہوا، اس کے کوئی بیٹا  نہ تھا، صرف ایک لڑکی تھی جو عثمان خان کے عقد میں تھی، لہٰذا اراکینِ سلطنت نے متفقہ طور پر عثمان خان کو قونیہ کے تختِ سلطنت پر بٹھاکر اپنا بادشاہ تسلیم کیا، اس طرح اسرائیل بن سلجوق کی اولاد نے جو سلطنت 470ھ میں قائم کی تھی، وہ 699ھ میں ختم ہوکر اس کی جگہ سلطنتِ عثمانیہ قائم ہوئی جو ہمارے اس زمانہ تک قائم رہی۔

اسرائیل بن سلجوق وہی شخص تھا جس کو سلطان محمود غزنوی کے حکم سے سات برس تک ہندوستان کے قلعہ کالنجر میں قید رہنا پڑا تھا، عثمان خان کی تخت نشینی کے وقت سلطنت قونیہ کی بہت ہی کمزور حالت تھی اور رومیوں نیز منگولوں کے حملوں سے اس ضعیف تر اور برائے نام سلطنت کا مٹ جانا یقینی تھا، لیکن عثمان خان کے تخت نشین ہوتے ہی اس تنِ بے جان میں جان پڑنی شروع ہوئی، جس کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ عثمان خان کے ساتھی اور اراکینِ سلطنت اور فوج کے سپاہی اور رعایا سب عثمان خان کے حسن سلوک سے خوش اور اس کو محبوب رکھتے تھے، عثمان خان میں ایک طرف دینداری اور دوسری طرف شجاعت بدرجہ کمال موجود تھی، عثمان خان نے سب سے پہلے رومیوں سے شہر قرا حصار فتح کرکے اپنا دار السلطنت بنایا اور اس نئی سلطنت کا نیا دارالسلطنت تجویز ہونا بھی بہت ہی مبارک و میمون ثابت ہوا۔

عثمان خان کو اپنی تخت نشینی کے بعد ہی حاسدوں اور رقیبوں کی عداوتوں اور سازشوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑا تھا، جن پر وہ انجام کار غالب آیا اور سب کو طاقت کے ذریعہ خاموش کردیا، تاہم سلجوقیوں کے پرانے خاندان کے افراد عثمان خان کی حکومت و سلطنت کو رشک و رقابت کی نظر سے دیکھتے تھے اور اس پر کوئی تعجب بھی نہیں ہونا چاہیے، اگر عثمان خان کسی موقع پر بھی اپنی کمزوری یا خوف کا اظہار کرتا تو اس کے رقیب یقیناً اس کے خلاف فوراً اٹھ کھڑے ہوتے، لیکن عثمان خان نے ہر موقع پر اپنے آپ کو بے خوف اور نڈر ثابت کیا، چنانچہ جب عیسائیوں نے شروع ہی میں قونیہ پر حملہ آوری کے لیے فوجیں فراہم کیں تو عثمان خان نے امرائے سلطنت کو جمع کرکے مجلس مشورت منعقد کی، اس موقع پر عثمان خان کا چچا یعنی ارطغرل کا بھائی بھی جو بہت بوڑھا تھا موجود تھا، اس نے اپنی رائے ظاہر کی کہ عیسائیوں کے مقابلے میں ہم کو فوج کشی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو صلح و آشتی کے ذریعہ اس جنگ کو ٹال دینا چاہیے، اگر جنگ برپا ہوئی تو اندیشہ ہے کہ منگولوں اور دوسرے ترک سرداروں کی فوجیں بھی عیسائیوں کے حملہ کو کامیاب بنانے کے لیے ہمارے ملک پر چڑھائیاں کردیں گی، ہم ان سب کا بیک وقت مقابلہ نہیں کر سکیں گے، عثمان خان نے اپنے چچا کی زبان سے یہ پست ہمتی پیدا کرنے والا مشورہ سن کر فوراً بلا تامل اپنی کمان میں تیر جوڑ کر اس بوڑھے چچا کا کام تمام کردیا، اس نظارہ کو دیکھ کر کسی کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ جنگ اور حملہ آوری کے خلاف رائے ظاہر کرے، چنانچہ عثمان خان نے حملہ کیا اور عیسائیوں کو شکست فاش دے کر قرا حصار پر قابض و متصرف ہو گیا اور اس کے بعد بجائے قونیہ کے قرا حصار ہی کو اپنا دارالسلطنت بنایا، اس کے بعد عثمان خان نے پہیم عیسائی علاقوں پر حملے شروع کردیئے اور ایک کے بعد دوسرا شہر فتح کرتا اور عیسائیوں کو ایشیائے کوچک سے نکالتا گیا۔

عیسائیوں کے بادشاہ قیصر قسطنطنیہ نے جب دیکھا کہ عثمان خان کا سیلاب بڑھتا ہی چلا آتا ہے تو اس نے منگولوں سے خط و کتابت اور پیام وسلام شروع کر کے اس بات کی کوشش شروع کی کہ منگول مشرق کی جانب سے عثمان خان پر حملہ آور ہوں، تاکہ وہ عیسائیوں کی طرف سے منہ موڑ کر مغلوں کی طرف متوجہ ہو، چنانچہ قیصر کو ایک حد تک اپنی اس کوشش میں کامیابی بھی حاصل ہوئی، منگولوں نے قیصر کے ابھارنے سے عثمان خان کے ملک پر حملے شروع کردیئے، مگر چونکہ عثمان خان کو عیسائیوں کے مقابلے میں پہیم فتوحات حاصل ہوئی تھیں، اس لیے اس کی فوج کے دل خوب بڑھ گئے تھے اور فتوحات ہی ایسی چیز ہیں جو جنگجو قوموں میں ہمت اور جوش پیدا کر دیا کرتی ہیں، چنانچہ عثمان خان نے اپنے بیٹے ار خان کو جو صف شکنی میں اپنا نظیر نہیں رکھتا تھا، اپنی فوج کا ایک حصہ دے کر منگولوں کے حملوں کو روکنے پر مامور کیا اور خود بقیہ فوج لے کر رومیوں پر پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ حملے کرنے لگا، جنگجو اور سپاہی پیشہ قوموں کے لیے جنگ کے ایام عید کی خوشی لے کر آیا کرتے ہیں، رعایا نے بھی اپنے بہادر فرماں روا کا دل سے ساتھ دیا اور ارخان نے منگولوں کے ہر ایک حملہ کو بڑی خوبی کے ساتھ روکا اور ہر مرتبہ ان کو شکست دے کر پیچھے ہٹا دیا، یہاں تک کہ منگول تھک کر بیٹھ رہے اور اپنی حملہ آوری کے اس ناستودہ سلسلہ کو ترک کردیا۔

ار خان اس طرف کا انتظام کر کے باپ سے جا ملا، دونوں باپ بیٹوں نے عیسائیوں کو مار مار کر پیچھے ہٹانا اور بھگانا شروع کر دیا، عثمان خان ایشیائے کوچک کو فتح کرتا ہوا شمال میں بحرِ اسود کے ساحل تک پہنچ گیا، ادھر ار خان نے عیسائیوں کو مغرب کی طرف بھگاتے ہوئے بروصہ کو فتح کر لیا، بروصہ قیصر روم کا ایک زبردست شہر ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کے قریب تھا، اس شہر کو جب ار خان نے فتح کیا ہے تو عثمان خان ساحل بحر اسود تک پہنچ کر قرا حصار میں سالماً غانماً واپس آ گیاتھا اور اتفاق سے بیمار تھا، بروصہ کی فتح کا حال سن کر عثمان خان نے فوراً بروصہ کا قصد کیا اور اپنے سرداروں کو حکم دیا کہ اگر میں بروصہ پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں فوت ہو جاؤں تو تم میری لاش کو بروصہ لے جا کر دفن کرنا اور وہیں میرا مقبرہ بنانا اور آئندہ میرے بیٹے ار خان کو بروصہ ہی میں رکھنا اور اسی شہر کو دارالسلطنت بنانا چاہیے، چنانچہ عثمان خان بروصہ پہنچ کر کئی روز کے بعد فوت ہوا اور اسی شہر میں اس کی وصیت کے موافق اس کا مقبرہ بنایا گیا، یہ واقعہ 727ھ کا ہے۔

عثمان خان نے مرتے وقت اپنے بیٹے ار خان کو وصیت کی کہ مجھ کو اپنے مرنے کا کوئی غم اس لیے نہیں ہے کہ تجھ جیسا لائق بیٹا میرا جانشین ہو گا، تجھ کو چاہیئے کہ دین داری، نیکی، رحم دلی اور عدل کو کبھی ترک نہ کرے، رعیت کی حفاظت کرنا اور احکام شرع کو رواج دینا تیرا سب سے ضروری اور مقدم کام ہونا چاہیے، آخر میں اس نے بیٹے کو تاکید کی کہ بروصہ ہی کو اپنا دارالسلطنت بنایا جائے، اس وصیت سے بھی عثمان خان کی مآل اندیشی کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے، وہ جانتا تھا کہ کہ قونیہ میں ایسے افراد موجود ہیں جو کسی نہ کسی وقت میرے خاندان کی بیخ کنی پر آمادہ ہو سکتے ہیں، ادھر اس کو معلوم تھا کہ منگولوں کو مسلمانوں سے محض اسلام کی وجہ سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور وہ خود اسلام قبول کرتے جاتے ہیں، اگر دارالسطنت قونیہ رہا تو خواہ مخواہ منگولوں اور دوسرے سرداروں کے ساتھ جھگڑے برپا رہیں گے، حالانکہ مسلمانوں کے لیے سب سے بہتر میدان عیسائی ممالک ہیںشلہٰذا بروصہ کے دارالسلطنت ہونے سے عیسائیوں کو لازماً ایشیائے کوچک کے خیال سے دست بردار ہونا پڑے گا اور وہ در دانیال سے اس طرف آنے کی کبھی جرأت نہ کر سکیں گے، نیز بروصہ کے بادشاہوں کو بآسانی یورپ پر حملہ آور ہونے اور بلقان کے فتح کرنے کا موقع ملے گا۔

عثمان کا یہ خیال بہت صحیح تھا، اس کے جانشینوں نے اس عثمانی اصول کو مد نظر رکھا اور اسی اصول پر کار بند رہنے کا نتیجہ تھا کہ چند روز کے بعد عثمانیوں کا دارالسلطنت اور نہ یعنی ایڈریا نوپل ہوا، جس کے بعد وہ قسطنطنیہ پر قابض ہو سکے۔

عثمان خان کی نسبت مشہور ہے کہ وہ غیر معمولی بہادری رکھتا تھا، جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس کے ہاتھ جب کہ وہ سیدھا کھڑا ہوتا تھا تو گھٹنوں تک پہنچ جاتے تھے، وہ اعلیٰ درجہ کا شہسوار اور خوبصورت شخص تھا، اس کی قوت فیصلہ بہت زبردست تھی، وہ پیچیدہ اور اہم امور کے متعلق فوراً ایک رائے قائم کر لیتا تھا۔ اور وہی رائے درست اور صائب ہوتی تھی۔ وہ بلا کا ذہین اور ذکی تھا، رحم دلی اور فیاضی کی صفات میں بھی وہ خاص طور پر بلند مرتبہ رکھتا تھا۔

قونیہ کے سلجوقی بادشاہوں کے جھنڈوں پر ہلال کی شکل بنی ہوئی ہوتی تھی، اس ہلال کے نشان کو عثمان خان نے بھی بدستور اپنے فوجی جھنڈوں میں قائم رکھا اور یہی ہلال کا نشان عثمانی سلاطین کا قومی نشان سمجھا گیا اور آج تک وہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ محبوب نشان ہے، عثمان خان 69 سال اور چند مہینے کی عمر میں 27 سال کی حکومت کے بعد فوت ہوا، اس کے زہد و اتقا کا اندازہ شاید اس طرح ہو سکے کہ مرتے وقت عثمان کی ذاتی ملکیت میں زرہ، سلوار اور ٹپکے کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی، یہی وہ تلوار ہے جو ہر عثمانی سلطان کی تخت نشینی کے وقت اس کی کمر سے باندھی جاتی رہی ہے، اس جگہ یہ بتا دینا ضروری ہے کہ عثمان خان نے جب قونیہ کو ترک کیا تو پرانے سلجوقی خاندان کے افراد کو قونیہ کا عامل اور حکمران مقرر کر کے ان مراسم و اعزازات کو ان کے لیے جائز قرار دے دیا تھا جو سلجوقی سلاطین کے لیے مختص تھے، دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ قونیہ میں عثمان خان نے ایک ماتحت ریاست قائم کردی تھی جو پرانے سلاجقہ روم کے خاندان میں سلطنت عثمانیہ کی ماتحت عرصہ تک قائم رہی، اس طرز عمل سے بھی عثمان خان کی شرافت اور پاک باطنی و مآل اندیشی کا ایک ثبوت بہم پہنچتا ہے۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button