فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (01)

حرف آغاز

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر احمد محمود الاحمد جو مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الدعوة وأصول الدین میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے، انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی جہادی و قتالی زندگی پر ایک لیکچر دیا جو بعد میں ایک مختصر کتابچہ کی شکل میں شائع ہوا، اس کا میں نے مطالعہ کیا تو موجودہ حالات کے تناظر میں اسی مختصر کتابچہ کو بنیاد بنا کر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی زندگی کا مختلف پہلوؤں سے مطالعہ شروع کیا تو پتہ چلا کہ:

دنیا میں کچھ لوگ ہمیشہ کے لیے کسی بات کی علامت اور نشان بن جاتے ہیں یا کوئی خاص چیز ان کی پہچان بن کر رہ جاتی ہے۔

ایسے ہی عظیم مجاہد، گوریلا کمانڈر اور صف شکن سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ اپنے کارناموں کی بنا پر شجاعت و بہادری، غیرت و حمیت اور صلیبیوں پر جہادی و قتالی یلغاروں کی بنا پر ہمیشہ کے لیے جہاد و قتال کا نشان بن گئے، اب جب بھی کہیں دلاوری وبہادری، شجاعت اور صلیبیوں کو نکیل ڈالنے کی بات کی جاتی ہے تو فوراً سلطان صلاح الدینؒ کا خیال ذہن میں آتا ہے۔

جن لوگوں سے مستقبل میں اللہ کریم نے کوئی بڑا اور عظیم کام لینا ہو تا ہے، ان کے بچپن میں ہی ان کی غیر معمولی صلاحتیوں کی کسی نہ کسی قرینے اور کنائے سے نشان دہی فرما دیتے ہیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ جس نے اسلامی تاریخ پر اپنی عظمت و شوکت کے انمٹ نقوش ثبت کیے ہیں، ان کی اسلام اور مسلمانوں کے لیے غیرت و حمیت کا عالم یہ تھا کہ ابھی نو عمر ہی ہیں، عیسائی فوجیں “رہا “ پر قبضہ کر کے مال و اسباب لوٹ کر عورتوں کو پکڑ کر لے جاتی ہیں، یہ ظلم دیکھ کر نو عمر صلاح الدین ایک ترکی بوڑھے کو لے کر سلطان عماد الدین زنگیؒ کے پاس پہنچتے ہیں، عیسائیوں کے مظالم سے بادشاہ کو آگاہ کرتے ہیں، اس کی اسلامی حمیت اور غیرت کو بیدار کرتے ہیں اور رو رو کر مدد کے لیے فریاد کرتے ہیں۔

نیک دل بادشاہ کو ان حالات کا علم ہوتا ہے تو وہ تمام فوجیں جمع کر تا ہے، انہیں “رہا ‘‘ کے حالات سناتا اور جہاد پر ابھارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ” کل صبح میری تلوار “رہا ” کے قلعے پر لہرائے گی، تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا؟“

یہ اعلان سن کر تمام فوجی حیران رہ جاتے ہیں کہ یہاں سے ”رہا “۹۰ میل کی دوری پر ہے، راتوں رات وہاں کیسے پہنچا جاسکتا ہے؟ یہ تو کسی طرح ممکن نہیں، تمام فوجی ابھی غور ہی کر رہے تھے کہ ایک نو عمر لڑکے کی آواز گونجتی ہے: ”ہم بادشاہ کا ساتھ دیں گے۔” لوگوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نو عمر لڑکا کھڑا تھا، بعضوں نے فقرے چست کیے کہ ”جاؤ میاں کھیلو کودو! یہ جنگ ہے بچوں کا کھیل نہیں۔ ” سلطان نے یہ فقرے سنے تو غصے سے چہرہ سرخ ہوگیا بولا: ”یہ بچہ سچ کہتا ہے اس کی صورت بتاتی ہے کہ یہ کل میرا ساتھ دے گا، یہی وہ بچہ ہے جو ”رہا “ سے میرے پاس فریاد لے کر آیا ہے، اس کا نام صلاح الدین ہے۔

یہ سن کر فوجیوں کو غیرت آتی ہے سب تیار ہو جاتے ہیں اور اگلے روز دوپہر تک تیار ہوکر ” رہا ” پر حملہ کر دیتے ہیں، گھمسان کی جنگ ہوئی، عیسائی سپہ سالار بڑی آن بان کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلا، سلطان نے اس پر کاری ضرب لگائی، مگر لوہے کی زرہ نے وار کو بےاثر بنادیا، عیسائی سپہ سالار نے پلٹ کر سلطان پر حملہ کیا اور نیزہ تان کر سلطان کی طرف پھینکنا ہی چاہتا ہے کہ صلاح الدین کی تلوار فضاء میں بجلی کی طرح چمک اٹھی اور زرہ کے کٹے ہوئے حصہ پر گر کر عیسائی سپہ سالار کے دو ٹکڑے کر کے رکھ دیئے، عیسائی سپہ سالار کے موت کے گھاٹ اترتے ہی عیسائی فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور “رہا” پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔

آج ہر شخص کی زبان پر نو عمر صلاح الدین کی شجاعت کے چرچے ہیں اور یہ واقعہ تاریخ اسلام میں سنہرے الفاظ میں لکھا جاتا ہے۔

جوان ہو کر یہی صلاح الدین مشرق کا وہ سپہ سالار اور جر نیل بنا کہ جس کی تلوار ہمیشہ صلیبیوں پر قہرِ الٰہی بن کر برستی رہی۔

عیسائی جرنیل صلیبیوں کا لاؤ لشکر لے کر صلاح الدین کے علاقے میں پہنچ گیا۔ سلطان نے اس کا کیسے استقبال کیا؟ یہ تو آپ کتاب پڑھ کر جان لیں گے۔ اس مختصر سے کتابچے میں ہم نے سلطان کی زندگی کے آخری چھ سال کا عرصہ منتخب کیا ہے، سلطان کی زندگی کے یہ آخری چھ سال اس کی زندگی کے سب سے قیمتی اور یادگار ایام ہیں کہ جن میں اس نے مسلسل صلیبیوں سے معرکے کرتے ہوئے، جہاد و قتال کے میدان گرم کرتے ہوئے، صلیبیوں کو ہر طرف سے گھیر گھیر کر ان کا شکار کرتے ہوئے، بیت المقدس کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے کے لیے، اللہ کے اس بابرکت گھر کی عزت و ناموس کی رکھوالی کے لیے، دن رات اپنی جان ہتھیلی پر لیے شمشیروں کی چھاؤں میں، تیروں کی بارش میں، نیزوں کی انیوں میں، گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر اس کو دشمن کی صفوں میں سرپٹ دوڑاتے ہوئے تلوار بلند کرتے ہوئے، اللہ کے باغیوں، کافروں، ظالموں کی گردنیں اڑاتے ہوئے، ”مِن دُونِ الله” کے ان پجاریوں کو خاک و خون

میں تڑپاتے ہوئے اور ایسے معرکے، ولولے اور غلغلے برپا کرتے ہوئے اور دشمن پر گھاتیں لگاتے ۔۔۔ یلغار کرتے، شاہین کی طرح ممولوں پر جھپٹتے پلٹتے اور پھر جھپٹتے ۔۔۔ سلطان کی زندگی کے آخری چھ سالوں میں اسی مجاہدانہ روپ کو دکھایا گیا ہے۔

اس جہادی و قتالی تگ و تاز میں سلطان کی زندگی کی آخری صبحیں اور شامیں گزریں، حتی کہ اس نے صلیبیوں کے سروں کی فصل کو شمشیر جہاد سے کاٹتے ہوئے مسجد اقصی کو ناپاک صلیں قبضے سے آزاد کروالیا۔

سلطان کے انہی شجاعت و دلاوری، بہادری وحمیت سے بھر پور قتالی ایام کے چند نظاروں کو ہم نے کتاب کا حصہ بنایا ہے کہ جو خالصتاً سلطان کے جہادی و قتالی کردار کے غماز ہیں، عظیم مجاہد سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی زندگی کے آخری سالوں کے یہ جہادی لمحات ہمیں یہ دعوتِ مبارزت دے رہے ہیں کہ: (هل مِن مبارز) کہ تم میں کوئی ایسادلاور ہے جو میدان میں آکر ان صلیب کے پجاریوں کا مقابلہ کرے؟

آج جب امت مسلمہ صلیبیوں کے گھیروں، ان کی مکروہ چالوں اور فریبانہ سازشوں کے جال میں پھنس کر لہولہان ہے ۔۔۔ آہ!!! آج افغانستان، کشمیر جنت نظیر کے مظلومین،مقہورین، مجبورین، معصومین ۔۔۔ کٹے پھٹے ۔۔۔ خون آلود ۔۔۔ بارود کی بو میں رچے بسے۔۔۔ رو رو کر یہ فریاد کر رہے ہیں کہ نام نہاد مہذب یورپی درندوں اور ان کے ہرکاروں نے ہمیں چیر پھاڑ کر رکھ دیا ۔۔۔ ہمیں گھر سے بے گھر ۔۔۔ وطن سے بے وطن کر دیا ہے ۔۔۔ ہمارا یہ حال کر دیا ہے ۔۔۔ ہم جائیں تو کس کے پاس شکایت لے کر جائیں، کس کے پاس فریادی بن کر جائیں ۔۔۔ ہم کس کو اپنا دکھڑا سنائیں کہ کون ہمارے دکھوں کا مداوا کر سکے؟

یہ دکھیارے آج کسی صلاح‌الدین اور ابن قاسم رحمہ اللہ کے منتظر ہیں، آسیں لگائے کب سے بیٹھے ہیں، آج پھر وہی مسجد اقصیٰ ۔۔۔ وہی بیت المقدس جس کو سلطان صلاح الدین نے غیرت مسلم کا ثبوت دیتے ہوئے آزاد کروایا تھا، پھر صلیبیوں اور یہودیوں کے خونخوار پنجوں میں پھنسی ہوئی ہے ۔۔۔ اور وہاں مسجد اقصیٰ ۔۔۔ سسکتی ہوئی ۔۔۔ بلکتی ہوئی ۔۔۔ کراہتی ہوئی ۔۔۔ آہیں اور سسکیاں بھرتی ہوئی ہم سے یوں فریاد کررہی ہے، ہم سے کہہ رہی ہے کہ:

”میں اللہ کا گھر مسجد اقصیٰ ہوں، میں تمھارا قبلۂ اول ہوں، میں نبی اخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے سجدوں کی امیں ہوں۔

*اے غیرتوں، شجاعتوں کے امین مسلمانو! تمہیں پکار رہی ہوں، کب سے بلک رہی ہوں ۔۔۔ کہ کفر کے تیر میرے سجدوں کے لیے بے تاب جسم کو زخمی کر رہے ہیں ۔۔۔ میرا جسم زخموں سے چور چور ہو چکا ہے، لہولہان اور ویران ہو چکا ہے ۔۔۔ اے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کلمہ پڑھنے والے امتیو! تم میری چیخوں کو سن بھی رہے ہو ۔۔۔ پھر بھی میری مدد کے لیے نہیں آرہے؟۔۔۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔ کب آ کر میرے زخموں پر مرہم رکھو گے۔؟

ان حالات میں کیا ہم میں کوئی ایسا ہے جو صلاح الدین بن کر دنیا بھر کے صلیبیوں کو منہ توڑ جواب دے کر یہ بتادے کہ غیرت مسلم ابھی زندہ ہے، ایوبیؒ کی شجاعت ابھی زندہ ہے ۔۔۔ ہماری رگوں میں ابھی غزنوی، غوری اور ابن قاسم رحمة الله علیہم کا غیرتوں اور شجاعتوں کا امین خون گردش کر رہا ہے ۔۔۔

اگر تم نے مسلمانوں پر روا موجودہ نظام کو صلیبی جنگوں کا بدلہ کا نام دے دیا ہے تو پھر ایسے ہی سہی ۔۔۔ اب ہر میدان میں دوبارہ ہلال اور صلیب کی جنگ ہوگی ۔۔۔ کفر اور ایمان کی جنگ ہوگی ۔۔۔ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہوگی، اب میدان جہاد و قتال سجیں گے ۔۔۔ اب معرکے ہوں گے ۔۔۔ اب ایوبیؒ کے روحانی فرزند جہاد و قتال کی شمشیر بے نیام ہاتھوں میں تھام کر میدان کارزار میں اتر آئے ہیں ۔۔۔

رب المستضعفین کی رحمت سے اب ہر اس صلیبی کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں گے جو ظلم کے لیے کسی مسلمان کی طرف بڑھیں گے، وہ آنکھ نکال دیں گے جو امت مسلمہ کی کسی بیٹی کی طرف بری نظر سے دیکھنے کی جرأت کرے گی کہ صلاح الدین کے روحانی فرزند ابھی زندہ سلامت ہیں ۔۔۔ وہ تمہیں ہر جگہ ظلم سے روکیں گے ۔۔۔ جہاد و قتال کی شاہراہ پر چلتے ہوئے تمہارے پیچھے پیچھے آئیں گے ۔۔۔ تمہیں مظلوم و مجبور مسلمانوں پر ہرگز ظلم نہیں کرنے دیں گے ۔۔۔ ظلم سے روکنے کو ۔۔۔ تم ہماری دہشت گردی کہو یا صلیبی جنگ کے آغاز کا بگل بجاؤ ۔۔۔ ہم ہر دم تیار ہیں ۔۔۔ اپنے رب کریم کی رحمت و نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم تجھے باور کروادیتے ہیں کہ ان شاء الله تیری طرف سے شروع کی گئی اس صلیبی جنگ کا نتیجہ بھی وہی بر آمد ہو گا جو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے دور میں بر آمد ہوا تھا، پھر تُو آگے آگے ہو گا اور ہم تیرے پیچھے پیچھے تعاقب کرتے ہوئے یورپ پہنچیں گے اور اس وقت تک اس جہادی و قتالی شعلے کو سرد نہ ہونے دیں گے ۔۔۔ کہ جب تک یورپ میں جہاد کے شعلے نہیں بھڑک اٹھتے ۔۔۔ اعلائے کلمۃ اللہ کا پر چم لہرا نہیں جاتا ۔۔۔ جب تک دین خالص اللہ کے لیے نہیں ہو جاتا اور فضائیں “الله اکبر“ کے دلنواز ترانوں سے نہیں گورنج جاتیں ۔۔۔

ان شاء الله وہ دن عنقریب آنے والا ہے۔ ان شاء الله اب الله تعالیٰ کی رحمت سے ہر جوان دنیا میں مختلف جگہ ظلم و جور پر مبنی روا رکھی گئی ان صلیبی جنگوں کے مقابلے کے لیے تیار ہو چکا ہے، بس ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں ۔۔۔ مسرت کی گھڑیاں آئی ہی چاہتی ہیں۔ ان شاءالله

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button