فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ قسط (12)

فتحِ بیت المقدس:

حطین میں کامیاب و کامران ہونے کے بعد “القدس” کی جانب راستہ بالکل واضح ہو چکا تھا، اب یہ بات ممکن تھی کہ صلاح الدین اس کا قصد کرتا اور قدرے کو شش کرکے اس کو اپنے قبضے میں لے لیتا، لیکن اس نے عسکری نقطہ نگاہ سے اس کو دیکھا اور یہی بات اس کی اعلیٰ شخصیت اور شان عبقریت کو نمایاں کر رہی ہے، اس نے یہ سوچا کہ القدس تو کئی شہروں کے درمیان واقع ہے اور ساحل سمندر پر صلیبیوں کے کئی مراکز قائم ہو چکے ہیں جہاں سے وہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بڑی آسانی سے قائم کر سکتے ہیں، خصوصاً عیسائیوں کے وہ ممالک جو ارض فلسطین میں صلیبی ناپاک وجود کو لا کھڑا کرنے میں چشموں کی حیثیت رکھتے تھے، اسی لیے اس نے پہلے ساحلی صلیبی مراکز سے خلاصی پانے اور دوسرے صلیبی قلعوں اور پناہ گاہوں پر قبضہ کرنے کا پختہ پروگرام بنایا، اس کے بعد وہ القدس کی طرف پیش قدمی کرکے اسے فتح کر لے گا جب کہ اس صلیبی ناپاک وجود کی زندگی کی شریانوں کو وہ پہلے ہی کاٹ چکا ہو گا، اس کے علاوہ ” عکا” اور دوسرے ساحلی صلیبی قلعوں پر قبضہ کرنا بھی مصر اور شام کے مابین راستہ بھی بنادے گا جو اس کے ملک کے دونوں بازو شمار ہوتے تھے، اس نے اپنے پروگرام کی تکمیل کے لیے عسکری اعتبار سے ہر طرح کی تیاری میں مجاہدین کو اپنے ہمراہ لیا اور اپنے ذہن میں کھینچے ہوئے خطوط کو زمین پر کھینچنے کے لیے چل پڑا، حطین کی کامیابی کے بعد صرف چند ماہ ہی گزرنے پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مندرجہ ذیل شہروں اور قلعوں پر فتح نصیب فرمادی۔

عکا، قیساریہ، حیفا، صفوریہ، معلیا، شقيف، الغوله، الطور، سبطیہ، نابلس، مجدلیانه، یافا، تبنین، صیدا، جبیل، بیروت، حرفند، عسقلان، الرمله، الداروم، (ویرالبلح )غزہ، یبنی، بیت اللحم، بیت جبریل اور ان کے علاوہ ہر وہ چیز جو ان صلیبی بری فورسز کے پاس تھی۔

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ سب عظیم کامیابیاں اور بڑی بڑی فتوحات معرکہ حطین کے بعد 583 ہجری میں صرف چند مہینوں کے دوران ہی پوری ہوگئی تھیں، اس طرح “بیت المقدس” کو فتح کرنے کے لیے فضاء مکمل طور پر ساز گار تھی، کام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سلطان نے مصر سے اسلامی بحری بیڑے بھی منگوا لیے جو حسام الدین لولو الحاجب ( چمکدار آبرو والا ) کی زیر قیادت پہنچے، جو اپنی جرأت و بسالت اور عظیم خطر ناک کاموں میں بلا خوف و خطر کود جانے میں مشہور زمانہ تھا اور صائب المشورہ بھی تھا، اس نے ”بحرِ متوسط” میں چکر لگانے شروع کر دیئے، خصوصاً اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ کہیں (یورپ کے ) فرنگی ساحلِ فلسطین تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہونے پائیں۔

583 ہجری / 15رجب المرجب کو بروز اتوار ”القدس” کے قریب آن اترا، اب اس نے بیت المقدس میں محصور عیسائیوں سے کہا کہ ”بغیر خونریزی اور کشت وخون کے جس کو وہ ایسے مقدس مقام میں پسند نہیں کرتا، اطاعت قبول کر لیں۔” لیکن جب انہوں نے اس کے جواب میں متکبر انہ انکار پیش کیا تو پھر سلطان حملہ کرکے اور نقب لگا کر اس کو فتح کرنے کی تدابیر کرنے لگا، اس مقصد کے لیے پانچ دن صرف اسی کام میں گزر گئے، وہ بذات خود شہر کی دیواروں کے ارد گرد چکر لگاتا رہا، تا کہ اس کا کوئی کمزور پہلو تلاش کر کے وہاں سے حملہ آور ہو سکے، بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ شمالی جہت سے حملہ کر ہی دے۔

چنانچہ 20 رجب کو اس نے اپنے لشکر کو اس جانب منتقل کردیا، اسی رات مجنیقیں نصب کروانی شروع کر دیں، صبح ہونے سے قبل منجنیقیں لگ چکی تھیں، بلکہ اپناکام کرنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار تھیں۔۔۔ لو! اب انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا۔

دوسری طرف فرنگیوں نے فصیل کے اوپر اپنی مجانیق کو نصب کر لیا، دونوں طرف سے پتھراؤ شروع ہو گیا تھا، فریقین کے مابین سخت ترین لڑائی ہورہی تھی، امام ابن الاثیر کے بقول۔ ایک دیکھنے والے نے دیکھا کہ ہر ایک فریق اس لڑائی کو “دین” سمجھ کر لڑ رہا ہے اور یہ بات بھی ایسی ہے کہ:

دین ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر کو متحرک کرتی ہے، موت کو اس کا محبوب بنا دیتی ہے، اپنا سب کچھ اس پر لٹا دینا اس کے لیے آسان ترین بنا دیتی ہے، لوگوں کو اس بات کی ذرہ برابر بھی ضرورت نہ تھی کہ انہیں لڑنے مرنے موت کے دریا میں کودنے پر ابھارا جائے بلکہ شاید انہیں زبردستی کبھی روکا جائے تو رو کے نہ جاسکیں۔

یکبارگی زور دار حمله

پھر انہی جہادی و قتالی ایام میں سے ایک امیر عزالدین عیسیٰ بن مالک جو مسلمان قائدین اور متقین میں سے ایک تھا، وہ شہید ہو گیا تو اس کے جام شہادت نوش کرتے ہی مسلمانوں کے جوش اور ولولے میں ایک نیا رنگ پیدا ہوگیا تو انہوں نے یک بارگی ایسا حملہ کیا کہ فرنگیوں کے قدم اکھڑ گئے، کچھ مسلمان خندق عبور کر کے فصیل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، دیوار توڑنے والے نقّابوں نے شہر پناہ کو توڑنا شروع کر دیا، اس دوران دشمن کو دور رکھنے کے لیے مجانیق بلا توقف پتھراؤ کر رہی تھیں اور تیر انداز مسلسل تیروں کی موسلا دھار بارش برسا رہے تھے، تا کہ یہ نقاب (دیوار توڑنے والے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں، (یعنی یہ ان کے لیے کور فائر تھا)

جان بخشی کی درخواستیں:

تو جب ان فرنگیوں کے دفاع کرنے والوں نے مسلمانوں کے حملے کی شدت ان کے ارادوں کی صداقت اور ”القدس رسول معظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شب معراج کی عارضی قیام گاہ کو چھڑوانے کی خاطر موت کو سینے لگانے کے جذبات کو دیکھا تو انہیں اپنی ہلاکت و بربادی کا یقین ہو گیا اور سوائے امان طلب کرنے کے کوئی چارہ نہ دیکھا تو وہ مذاکرات کرنے کے لیے مائل ہوئے۔

”دنیا میں کافر قوموں سے مذاکرات کا طریقہ بھی یہی ہے کہ جہاد جاری رکھا جائے اور اللہ کے دشمنوں کا گھیرا تنگ کیا جائے کہ وہ مذاکرات کی اپیل کریں، یہ نہ ہو کہ مسلمان کمزوری دکھاتے ہوئے خود مذاکرات کی دعوت دیں اور وہ بھی مغلوبانہ جمہوری انداز میں کہ جس طرح آج کل ہو رہا ہے، پہلے مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا ہے، ان کو ذلیل کیا جاتا ہے اور پھر مذاکرات کی سازش کر کے ان کو نام نہاد معاہدوں کے جال میں پھانس کر بے بس کر دیا جاتا ہے۔”

اسی طرح مغلوب عیسائیوں کے معززین جمع ہو کر سلطان کے پاس امان طلب کرنے کی غرض سے آئے اور صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ سے اس شرط پر امان کے طلب گار ہوئے کہ بیت المقدس اس کے حوالے کیے دیتے ہیں تو آخر سلطان نے ان کی طلب کو مان لیا اور “بیت المقدس” لے کر انہیں امان نامہ دینے پر راضی ہو گیا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button